data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 3ججز کے تبادلے سے متعلق تاریخی مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر کا تبادلہ مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ کے اکثریتی فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ ججز کے تبادلے کو کسی طور پر نئی تقرری نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی اس پر اعتراض کی کوئی قانونی گنجائش موجود ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک طویل قانونی بحث کے بعد سامنے آیا ہے جس میں عدالتی خودمختاری، آئینی اختیارات اور ججز کی سنیارٹی جیسے اہم نکات زیر غور آئے۔

سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس آصف اور جسٹس خادم حسین سومرو کے تبادلے کے نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار نہیں دیا جا رہا۔ اس کے ساتھ ہی سنیارٹی سے متعلق معاملات صدر مملکت کو بھیج دیے گئے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اس معاملے کو نمٹا سکیں۔ جب تک سنیارٹی کا فیصلہ نہیں ہوتا، جسٹس سرفراز ڈوگر قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 200 کو بنیادی حوالہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت صدر پاکستان کو ججز کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری میں منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ اختیار مکمل طور پر آزاد ہے اور کسی قانون کے تحت اس پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ آرٹیکل 200 کے تحت دیا گیا تبادلے کا میکانزم جج کی رضا مندی سے مشروط ہے اور اس کے بعد متعلقہ دونوں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت لازمی ہے۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر جج تبادلے کے لیے رضامند نہ ہو تو یہ عمل وہیں رک جاتا ہے۔ جب جج آمادہ ہو جائے تو تبادلہ ممکن ہے، لیکن اس کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان اور دونوں متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی رائے ضروری ہے تاکہ عدالتی مفاد، انتظامی ضروریات اور عوامی بھلائی کو مدنظر رکھا جا سکے۔

عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ جج کا ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں تبادلہ نئی تقرری کے مترادف ہوتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تقرری اور تبادلہ آئینی طور پر 2الگ معاملات ہیں اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا دائرہ کار صرف تقرریوں تک محدود ہے۔ اس کے برعکس، تبادلے کا اختیار آئینی طور پر صدر کو حاصل ہے، جو جوڈیشل کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 کے تحت ججز کی زیادہ سے زیادہ تعداد کا تعین ضرور کیا گیا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ قانون آئینی اختیارات کو محدود نہیں کر سکتا۔ یعنی صدر کے پاس تبادلے کے جو اختیارات ہیں، وہ اس ایکٹ کی کسی شق سے مشروط یا محدود نہیں ہو سکتے۔

دوسری جانب جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے رائے دی کہ ججز کے تبادلے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے اور اسے آئینی دائرہ کار سے تجاوز تصور کیا جانا چاہیے۔ اختلافی فیصلے میں اس مؤقف کو بھی تقویت دی گئی کہ ججز کو سزا کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کیا گیا، جو عدالتی آزادی پر حملہ ہے۔

جسٹس افغان نے اختلافی رائے سناتے ہوئے ایک شعر بھی پڑھا:

امن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

واضح رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سنایا گیا جب سپریم کورٹ نے طویل سماعتوں کے بعد آج کیس کا فیصلہ محفوظ کیاتھا۔ سماعت کے دوران وکیل ادریس اشرف نے آئین کے آرٹیکل 175 اور 200 میں ہم آہنگی کی درخواست کی، جب کہ اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ ججز کے تبادلے کا مکمل طریقہ آئین میں دیا گیا ہے اور وزیر اعظم یا صدر کا کردار محدود نوعیت کا ہے۔

دلائل کے دوران سابق اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت تبادلے کو نئی تقرری سے تعبیر نہ کرے،تاہم عدالت نے نشاندہی کی کہ ان کی پٹیشن میں ججز کو ڈیپوٹیشنسٹ کہا گیا ہے، جو آئینی طور پر غلط تصور کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5ججز نے ججز کے تبادلے اور سنیارٹی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جن میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل تھے۔ اس کے علاوہ بانی پی ٹی آئی اور کراچی بار کی جانب سے بھی اس معاملے پر الگ الگ درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کے تبادلے سپریم کورٹ تبادلے کا فیصلے میں عدالت نے چیف جسٹس کورٹ کے کیا گیا ہے اور گیا ہے کے تحت کہ ججز

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن