ججز تبادلے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار نہیں دے رہے، اکثریتی فیصلہ ، سرفراز ڈوگر قائمقام چیف جسٹس برقرار ،تفصیلات سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ججز تبادلے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار نہیں دے رہے، اکثریتی فیصلہ ، سرفراز ڈوگر قائمقام چیف جسٹس برقرار ،تفصیلات سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 19 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے تین دو کی اکثریت سے فیصلہ دیا۔
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس صلاح الدین پنہور نے اکثریتی فیصلہ دیا، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد نے اختلافی نوٹ لکھا۔
عدالت نے ججز کی سینارٹی سے متعلق معاملہ صدرِ پاکستان کو واپس ریمانڈ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کے تبادلے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار نہیں دے رہے۔ اکثریتی فیصلے میں ہدایت دی گئی کہ صدرِ مملکت سینارٹی کے معاملے کو جتنا جلد ممکن ہو، طے کریں۔
فیصلے کے مطابق، جب تک صدرِ مملکت سینارٹی کا تعین نہیں کرتے، قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر ہی امور سرانجام دیتے رہیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک بھر میں پری مون سون بارشیں کب شروع ہورہی ہیں؟ شہری تیار رہیں! ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد کا کیس: دو ملزمان کی ضمانت منظور ٹرمپ نے ایران پر حملے کی منظوری دیدی، امریکی اخبارکا دعویٰ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کی 2 گھنٹے طویل نشست؛ کیا باتیں ہوئیں، کیا طے پایا؟ ایران اسرائیل جنگ؛ یورپی وزرائے خارجہ کا ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا فیصلہ، کل اہم بیٹھک ہوگی آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈیر ریٹائرڈ امتیاز احمد طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، مختلف امور پر بات چیتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سب نیوز
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔