کے الیکٹرک کی خرابی کے باعث کراچی کے کئی علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
کراچی:
کے الیکٹرک کی خرابی کی وجہ سےکراچی کے مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
شہر قائد میں پانی کا نیا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث 100 ایم جی پمپ ہاؤس مکمل طور پر بند ہوگیا، جس سے شہر کے مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔
بجلی کا بریک ڈاؤن گزشتہ شب 11 بج کر 30 منٹ پر 100 ایم جی پمپ ہاؤس میں پیش آیا، جس کے بعد سے 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک کا فالٹ درست نہیں کیا جاسکا۔
اس دوران واٹر کارپوریشن حکام کے الیکٹرک انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کا فوری حل نکالا جاسکے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ 100 ایم جی پمپ ہاؤس سے کراچی کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے، جس کی بندش کے باعث شہر کے کئی علاقے شدید متاثر ہوں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ بجلی بحال ہونے تک پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کی جانب سے تاحال فالٹ کی نوعیت یا بحالی میں تاخیر کی وجوہات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پمپنگ اسٹیشن کی بندش نے کراچی میں پانی کے پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پانی کی فراہمی کے الیکٹرک کی ایم جی
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔