سینئر ایرانی عہدیدار محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنا کر ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی، تاہم یہ منصوبہ ایران کی جانب سے ناکام بنا دیا گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق محسن رضائی نے کہا ہے کہ اسرائیل کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ ایران کو شام میں تبدیل کر کے اسے دس سالہ بدامنی کی دلدل میں دھکیل دیا جائے۔

محسن رضائی کے مطابق ایران کے سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں نے بروقت اقدامات کر کے نہ صرف اسرائیلی سازش کو ناکام بنایا بلکہ خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن کو بھی مزید مستحکم کیا۔

اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ نے  کہا تھا کہ امریکا کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جارحیت روکنا نہیں چاہتا تو کم از کم ایک طرف کھڑا رہے، ایران کے فوجی فیصلہ سازوں کے پاس تمام ضروری آپشنز موجود ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں شدت دیکھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر کھلے حملوں اور خفیہ کارروائیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نہ صرف اسرائیلی خطرات سے آگاہ ہے بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار بھی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران کے

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟