جعفر ایکسپریس حادثے کا شکار، ٹریک اپ اور ڈائون بحال کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
عبدالجبار ابڑو : کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین متاثرہ بوگی کو ٹریک پر لانے کے بعد منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا ٹریک اپ اور ڈائون بحال کردیا گیا۔
تفصیلات کےمطابق جعفر ایکسپریس کی 1 بوگی پٹری سے اترنے کا معاملہ، سکھر سے مددگار ٹیم مشینری کے ساتھ پھچنے کے بعد ریلوے ٹریک کو بحال کردیا گیا ہے۔
سکھر سے مشینری پہنچنے کے بعد متاثرہ بوگی کو ٹریک پر لایا گیا، متاثرہ بوگی کو ٹریک پر لانے کے بعد ٹریک کو ریلوے ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا ہے۔
اساتذہ کا اسکولوں سے حاضری لگا کر غائب ہونے کا انکشاف
شکارپور آج منڈی پھاٹک کے قریب کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکپریس کی 1 بوگی پٹڑی سے اتر گئی تھی۔
ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ بوگی کو ٹریک پر لانے کے بعد منزل کی طرف روانہ کردیا ہے ، ریلوے ٹریک کی بحالی کے بعد ریلوے ٹریک کو ریلوے ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے۔
متاثرہ بوگی کے ویل جام ہو گئے تھے یا غیر متوازن ہونے کی وجہ سے پٹری سے اترے، ابتدائی تحقیقات مین حادثہ میں کسی قسم کی تخریب کاری یا شرپسندی کے شواہد نہیں ملے، ریلوے ٹریک کو بھی معمولی نقصان پہنچا، جسے فوری طور پر بحال کر دیا گیا۔
شہر میں مردہ مرغیوں کی سپلائی کرنےوالامافیاسرگرم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بحال کردیا گیا ریلوے ٹریک ٹریک کو کے بعد
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین