امریکا : ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی مدت میں 90 روز کی توسیع
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی مدت میں 90 روز کی توسیع کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی مدت میں توسیع کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری بار ٹک ٹاک پر پابندی میں توسیع کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ہیں، اس حکم نامے کے بعد ٹِک ٹاک کو امریکی خریدار کو بیچنے کیلئے 90 روز کی رعایت مل گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹِک ٹاک کو 17ستمبر تک فروخت کرنے کا وقت دے دیا ہے، امید ہے صدر شی جن پنگ ٹِک ٹاک کی فروخت کی اجازت دے دیں گے۔
خیال رہے کہ سابق امریکی حکومت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت کا قانون بنایا تھا۔
قانون کے مطابق ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک کسی امریکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کیا جانا تھا تاہم 20 جنوری کو صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی کے وقت میں 75 روز کی توسیع کے حکمنامے پر دستخط کیے تھے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ٹک ٹاک کو آپریشنل رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، صدر ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو بند نہیں کرنا چاہتے۔
مفت 2 جی بی انٹرنیٹ اور 200 منٹس حاصل کرنے کا طریقہ جانئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک پر پابندی ٹک ٹاک کو روز کی
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔