واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی مدت میں 90 روز کی توسیع کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کی مدت میں توسیع کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیسری بار ٹک ٹاک پر پابندی میں توسیع کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ہیں، اس حکم نامے کے بعد ٹِک ٹاک کو امریکی خریدار کو بیچنے کیلئے 90 روز کی رعایت مل گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹِک ٹاک کو 17ستمبر تک فروخت کرنے کا وقت دے دیا ہے، امید ہے صدر شی جن پنگ ٹِک ٹاک کی فروخت کی اجازت دے دیں گے۔

خیال رہے کہ سابق امریکی حکومت نے قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت کا قانون بنایا تھا۔

قانون کے مطابق ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک کسی امریکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کیا جانا تھا تاہم 20 جنوری کو صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی کے وقت میں 75 روز کی توسیع کے حکمنامے پر دستخط کیے تھے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ٹک ٹاک کو آپریشنل رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، صدر ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹک ٹاک کو بند نہیں کرنا چاہتے۔

مفت 2 جی بی انٹرنیٹ اور 200 منٹس حاصل کرنے کا طریقہ جانئے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ٹک ٹاک پر پابندی ٹک ٹاک کو روز کی

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ