Daily Mumtaz:
2026-06-03@08:42:31 GMT

قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 میں اہم ترامیم کا نفاذ

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 میں اہم ترامیم کا نفاذ

نادرا نے قومی شناختی کارڈ قواعد 2002 میں اہم ترامیم کا نفاذ کر دیا جس کے تحت ب فارم بنوانے کیلئے یونین کونسل میں پیدائش کا اندراج لازم ہو گا، بغیرچِپ والے کارڈ پر اردو کے ساتھ انگریزی کوائف بھی درج ہوں گے، کیوآرکوڈ شامل ہو گا اور اس پر کوئی اضافی فیس نہیں لی جائےگی۔
اعلامیہ کے مطابق تین سال تک کے بچوں کیلئے بائیومیٹرک اور تصویر کی ضرورت نہیں ہو گی ، 3 سے 10 سال کی عمر کے بچوں کی تصویر لازمی ہو گی، آئرِس سکین بھی لیا جائے گا، 10 سے18 سال کے بچوں کیلئے تصویر،بائیو میٹرک اور آئرِس سکین لازمی ہوں گے۔ہر بچےکو الگ ب فارم جاری کیا جائے گا جس پر میعاد بھی درج ہو گی، پہلے سے بنے ب فارم منسوخ نہیں کئے گئے، پاسپورٹ بنوانے کیلئےنیا ب فارم لازم ہو گا، جعلی اندراج کی روک تھام اور بچوں کی اسمگلنگ کے موثر خاتمہ میں مدد ملے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا  کہ فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کو قانونی دستاویزکی حیثیت دے دی گئی ہے، درخواست دہندہ کو اس میں درج معلومات کی درستی کا اقرارنامہ دینا ہو گا، شہری اب صرف نادرا کے ریکارڈ کی بنیاد پر ایف آرسی حاصل کر سکیں گے، خاندان کےان افراد کا اندراج بھی کرانا ہو گا جن کی تفصیلات ابھی تک جمع نہیں کرائی گئیں، شہری موبائل ایپ یا نادرا دفتر کے ذریعے اپنے خاندانی کوائف کی درستی کرا سکیں گے۔
ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے مردوں کے خاندان کے مکمل کوائف ایف آرسی میں درج ہوں گے ، خواتین شناختی کارڈ پراپنی مرضی سے والد یا شوہر کا نام درج کرا سکتی ہیں، شناختی کارڈکی ضبطی، تنسیخ اور بحالی کے کیسز کا فیصلہ 30 دن کے اندر ہو گا، نادرا نے بغیرچِپ والے کارڈ میں اسمارٹ کارڈکی بیشتر خصوصیات شامل کردیں، یہ کارڈ اسمارٹ کارڈ کے مقابلے میں کم فیس اور کم وقت میں جاری ہوں گے۔
بغیرچِپ والے کارڈ پر اردو کے ساتھ انگریزی کوائف بھی درج ہوں گے، کیوآرکوڈ شامل ہو گا اور اس پر کوئی اضافی فیس نہیں لی جائےگی، غلط معلومات پرکارڈ بنوانے والے افراد رضاکارانہ طور پر نادرا کو اطلاع دے سکتے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ بچوں کی ب فارم ہوں گے درج ہو

پڑھیں:

پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع

لاہور:   پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • کسان کارڈ سے کاشتکار سر اٹھا کر جیئے گا: مریم نواز
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع