data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش میں مصروف ہے، اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو امریکہ کو بلا تاخیر ایران پر حملہ کر دینا چاہیے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رہنما ٹیڈ کروز نے یہ بات معروف امریکی اینکر ٹکر کارلسن کے شو میں گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں اگر ایران واقعی ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ ایک ناقابلِ معافی اقدام ہے۔

جب ٹکر کارلسن نے ان سے شواہد کے بارے میں استفسار کیا تو ٹیڈ کروز کا کہنا تھا کہ یہ اطلاعات انہیں انٹیلی جنس اور عسکری ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں اور وہ گزشتہ دو سال سے اس خطرے سے آگاہ ہیں، یہ کوئی قیاس آرائی نہیں بلکہ مصدقہ اطلاعات ہیں، ایران مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کو ہدف بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ٹکر کارلسن نے متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ اس حوالے سے کوئی ایرانی ایجنٹ گرفتار کیوں نہیں کیا گیا اور اگر یہ منصوبہ بندی امریکہ کے اندر کی جا رہی ہے تو یہ تو آج کی سب سے بڑی خبر ہونی چاہیے۔ جواب میں سینیٹر کروز نے کہا کہ ہم فی الوقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی ایرانی کو پکڑا گیا ہے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ منصوبہ موجود ہے۔

سینیٹر کروز نے کہا کہ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے جس میں سابق امریکی صدر کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے ایران کی اعلیٰ قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے انتقام کا مرکزی ہدف قرار دے رکھا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی 2020 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے، جس کا حکم اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔ سینیٹر کروز نے کہا کہ ستمبر میں اُن کی ٹرمپ سے اس موضوع پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی اور سابق صدر نے تسلیم کیا تھا کہ انہیں سب سے بڑا خطرہ ایران سے محسوس ہوتا ہے۔

اس انکشاف نے واشنگٹن میں سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر واقعی ایران اس نوعیت کی سازش میں ملوث ہے تو بائیڈن انتظامیہ اس پر کیا ردعمل دے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کو نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار