ورلڈ بینک اورپنجاب حکومت کا 10 سالہ سماجی ترقیاتی منصوبے پراتفاق
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 جون2025ء)ورلڈ بینک اور پنجاب حکومت نے 10 سالہ سماجی ترقیاتی منصوبے پر اتفاق کر لیا ۔ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیرصدارت اہم اجلاس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ں* منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد اور پنجاب حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں سماجی ترقی کے لیے جاری دس سالہ منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
(جاری ہے)
اس موقع پر ورلڈ بینک کے وفد نے تعلیم، صحت اور سماجی خدمات میں معیاری کام پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی بھرپور تعریف کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خود غیرملکی سرمایہ کاری سے چلنے والے منصوبوں کی پیشرفت کا روزانہ ڈیش بورڈ پر جائزہ لیتی ہیں۔ فنڈز کے شفاف استعمال اور مختلف منصوبوں میں اوورلیپنگ سے بچنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں مختلف ترقیاتی اور سماجی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ سماجی بہتری کے لیے ورلڈ بینک کا تعاون قابل تحسین ہے،ورلڈ بنک کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اجلاس میں ورلڈ بینک
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔