بھارتی ریاست کرناٹک میں اقلیتوں کیلئے رہائشی منصوبوں میں 15 فیصد ریزرویشن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اقلیتی تنظیموں اور سماجی حلقوں کیجانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے اقلیتوں کی فلاح کی سمت میں ایک مثبت اور عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ریاست کرناٹک کی کانگریس حکومت نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے سرکاری رہائشی منصوبوں میں اقلیتی طبقات کیلئے ریزرویشن کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارمیا کی صدارت میں منعقدہ کابینہ میٹنگ میں لیا گیا۔ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے وزیر برائے قانون و پارلیمانی امور ایچ کے پاٹل نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کے شہری و دیہی دونوں علاقوں میں لاگو محکمہ ہاؤسنگ کے تمام اہم منصوبوں پر نافذ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے یہ قدم ریاست میں بے گھر اقلیتی طبقات کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا ہے تاکہ انھیں بہتر اور مستقل رہائش فراہم کی جا سکے۔
ایچ کے پاٹل نے کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔ رہائش انسانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کرے۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کا مقصد نہ صرف بے گھر اقلیتی خاندانوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے، بلکہ سماجی انصاف اور مساوات کو بھی فروغ دینا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے اقلیتی طبقات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ملے گا اور وہ سماجی دھارے میں بہتر طریقے سے شامل ہو سکیں گے۔
ادھر اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر سیاسی تنقید شروع کر دی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے الزام عائد کیا ہے کہ کانگریس حکومت نے یہ اعلان بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے کیا ہے۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ خالصتاً ایک سماجی ضرورت کے تحت لیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص طبقے کو خوش کرنا نہیں، بلکہ بے گھر اور پسماندہ افراد کو باعزت رہائش فراہم کرنا ہے۔ کابینہ میں منظوری کے بعد جلد ہی اس فیصلے کو سرکاری نوٹیفکیشن کی شکل دی جائے گی، جس کے بعد متعلقہ محکمے اس پر عمل آوری کا عمل شروع کریں گے۔ اقلیتی تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے اقلیتوں کی فلاح کی سمت میں ایک مثبت اور عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقلیتوں کی جا رہا ہے حکومت نے ہے اور
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔