Islam Times:
2026-06-03@07:35:49 GMT

امریکہ اسرائیل کا کہاں تک ساتھ دے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

امریکہ اسرائیل کا کہاں تک ساتھ دے گا؟

اسلام ٹائمز: ایران نے جس طرح کی اپنی میزائل پاور دکھائی وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ وہ امریکہ جس سے اسرائیل کی ساری امیدیں وابستہ تھیں، اسرائیل کی دیرینہ خواہش کے باوجود فوری طور پر ایران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکا بلکہ اس کی بجائے ٹرمپ نے اب یہ کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ دو ہفتے کے بعد کرے گا۔ ایک ہفتے میں اسرائیل کا جو حشر ہوا ہے گویا اگر یہی رفتار رہی تو دو ہفتے کے بعد اسرائیل کی حالت موجودہ حالت سے تین گنا زیادہ خراب ہوگی۔ تحریر: سید تنویر حیدر

امریکہ اپنی دوستی کی بجائے اپنی دشمنی سے زیادہ پہچانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اگر کسی کو کسی کی خالص دشمنی کا ذائقہ چکھنا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ امریکہ کی ذلف گرہ گیر کا اثیر ہو جائے۔ امریکہ اپنے چاہنے والوں سے جس طرح کا سلوک کرتا ہے، منیر نیازی کا یہ مصرعہ اس سلوک کی خوب ترجمانی کرتا ہے:
میں جس سے پیار کرتا ہوں
اسی کو مار دیتا ہوں
امریکہ کے اس دام الفت سے جڑی بہت سی کہانیاں ”انٹرنیشنل ریلیشنز“ پڑھنے والے طلباء کو فرفر یاد ہیں۔ امریکہ کی بے وفائی کی ان تمام داستانوں کو جاننے کے باوجود امریکی مدد سے لیلئ اقتدار کو حاصل کرنے والوں کو یہ گماں رہتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے امریکہ کی ذلفوں کے سایے تلے رہیں گے۔ ایسے خوش گمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ پر اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کرکے اس کی محبت خرید لیں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ وہ جس امریکی بیڑے سے مدد کی امید لگائے بیٹھے ہیں وہ آپ کو طوفانی لہروں سے بچانے کے لیے نہیں بلکہ اس کا کام محض آپ کے دریا برد ہونے کا تماشا دیکھنا ہے۔

ہم یہاں امریکہ کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھنے والے ان مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں، سیاسی جماعتوں یا شخصیات کا ذکر نہیں کرتے جو امریکہ کی بے وفائی کا شکار ہوئے بلکہ اس کا ذکر کرتے ہیں جو امریکہ کی جان سمجھا جاتا ہے اور جو امریکہ سے ہے اور امریکہ اس سے ہے۔ ہماری مراد امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل سے ہے۔ اسرائیل کو امید تھی کہ جب بھی اس پر کوئی حملہ آور ہوا امریکہ فوراً آگے آکر اس کی ڈھال بن جائے گا۔ اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو امریکہ نے اس قسم کے بیانات دیئے جس سے یہ ظاہر ہوا کہ امریکہ بس ایران کے خلاف جنگ میں کودا کہ کودا۔

یہ خیال تب تک پختہ تھا جب تک ایران نے پلٹ کر وار نہیں کیا لیکن ایران کے جوابی حملے کے بعد گویا ”این خیال است محال است و جنون“۔ ایران نے جس طرح کی اپنی میزائل پاور دکھائی وہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ وہ امریکہ جس سے اسرائیل کی ساری امیدیں وابستہ تھیں، اسرائیل کی دیرینہ خواہش کے باوجود فوری طور پر ایران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر سکا بلکہ اس کی بجائے ٹرمپ نے اب یہ کہا ہے کہ وہ اس جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ دو ہفتے کے بعد کرے گا۔

ایک ہفتے میں اسرائیل کا جو حشر ہوا ہے گویا اگر یہی رفتار رہی تو دو ہفتے کے بعد اسرائیل کی حالت موجودہ حالت سے تین گنا زیادہ خراب ہوگی لیکن اگر اسی دوران جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو پھر اس وقت تک پلوں پر سے بہت سا پانی بہ چکا ہوگا۔ البتہ یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ آئندہ کسی مرحلے پر اس جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ آئندہ آنے والے حالات امریکہ کے کردار کو واضح کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دو ہفتے کے بعد اسرائیل کی وہ امریکہ امریکہ کی ایران کے بلکہ اس

پڑھیں:

معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک معاون خصوصی / وزیر مملکت نے مبینہ طور پر اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروایا ہے،وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھائی لینڈ سے مساج کروایا تھا،اب وزارت کے سیکرٹری بل پر دستخط نہیں کررہے۔

نوٹ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر مساج کا بل بھی سرکاری کھاتے سے ادا کرنا چاہتے ہیں، کیا لوٹ مار کی گنگا بہہ رہی ہے ۔

مزید پڑھیں۔کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام