Express News:
2026-06-03@08:11:24 GMT

بلدیاتی انتخابات سے مسلسل گریز

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد میں اب بھی بلدیاتی انتخابات نہ ہوئے تو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بلا سکتے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے آرڈر کر دیا تو سبکی کا باعث ہوگا۔ کیا پنجاب حکومت پنجاب میں اور وفاقی حکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں اور پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں تین سال کی تاخیر کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن، پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر اس بار اتنا برہم ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کہنا پڑا کہ باقی تین صوبوں نے بلدیاتی انتخابات پہلے ہی کرا دیے تھے مگر بار بار کی ہدایات کے باوجود پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا رہے۔ ہم اس سلسلے میں اب آرڈر پاس کریں گے کہ جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اب الیکشن کمیشن آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھ سکتا۔

 اسلام آباد وفاقی اور پنجاب صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اور وہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ سب سے پہلے کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت نے وہاں جب بلدیاتی انتخابات کرائے تھے اس وقت وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ کے پی میں بلدیاتی الیکشن کے پہلے مرحلے میں جے یو آئی کو زیادہ کامیابی ملی تھی اور پشاور تک میں پی ٹی آئی اپنا میئر نہ لا سکی تھی اور اسے بعض دیگر اضلاع میں ناکامی ہوئی تھی جس پر دوسرے مرحلے میں وزیراعظم نے بلدیاتی انتخابات میں ذاتی مداخلت کا الزام لگا اور دونوں حکومتوں کی وجہ سے دوسرے مرحلے میں پی ٹی آئی کو کامیابی ملی تھی اور وہاں بلدیاتی انتخابات کو تین سال سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ان کی مدت بھی پوری ہونے والی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی نے دو سال قبل بلدیاتی الیکشن کرا دیے تھے جن میں ایم کیو ایم نے حصہ نہیں لیا تھا اور پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے باعث بھرپور کامیابی حاصل کر لی تھی اور سندھ حکومت پہلی بار کراچی اور حیدرآباد میں اپنے میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی تھی اور کراچی کے ٹاؤنز جو 26 ہوگئے تھے وہاں 9 میں جماعت اسلامی نے اپنے چیئرمین منتخب کرا لیے تھے اور باقی ٹاؤنز اور یوسیز میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور کے پی میں پی ٹی آئی نے اپنی مرضی اور سندھ میں پیپلز پارٹی نے اپنی مرضی کا بے اختیار کمزور بلدیاتی نظام منظور کرایا تھا جو آئین کے برعکس ہے۔

الیکشن کمیشن کے اجلاس میں بتایا گیا کہ 2019 سے لے کر اب تک پنجاب میں 5 مرتبہ مقامی حکومتی قوانین تبدیل ہوئے اور اب چھٹی بار بلدیاتی قوانین میں تبدیلی کی جا رہی ہے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ میں اس سلسلے میں خود سپریم کورٹ میں پیش ہو چکا ہوں یہ نہیں ہو سکتا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی قانون سازی نہ کرے اور پانچ سال بلدیاتی الیکشن ہی نہ ہوں اور الیکشن کمیشن یہ سب کچھ دیکھتا رہے اور کچھ نہ کرے ہم اس سلسلے میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو بلا سکتے ہیں اور آرڈر کرنا ہوگا۔

پنجاب کی طرح اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات وفاقی حکومت نہیں کرا رہی۔ پہلی بار اسلام آباد میں جو بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے، اس میں مسلم لیگ (ن) کا میئر منتخب ہوا تھا جس کے بعد وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت آگئی تھی جس نے (ن) لیگ کی دشمنی میں (ن) لیگی میئر کو دو بار غیر قانونی طور پر برطرف کیا تھا جنھیں عدلیہ نے دونوں بار بحال کیا تھا اور مدت پوری ہو سکی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی کے بعد (ن) لیگی وزیر اعظم بھی اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں کرا رہے۔

شہباز شریف 2018 سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو وہاں بھی سپریم کورٹ کے حکم پر بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے جن میں (ن) لیگی امیدواروں نے بھرپور کامیابی حاصل کی تھی اور پی ٹی آئی بری طرح ہاری تھی جس کا انتقام پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت نے لے کر پنجاب کے بلدیاتی انتخابات آتے ہی توڑ دیے تھے جس کے خلاف لارڈ میئر لاہور و دیگر میئرز نے لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کا فیصلہ چیلنج کیا تھا اور یہ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا جہاں پنجاب حکومت کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا گیا اور بلدیاتی اداروں کی بحالی کا حکم دیا گیا تھا مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر بھی ادارے بحال نہیں کیے تھے کیونکہ وزیر اعظم (ن) لیگی بلدیاتی اداروں کی بحالی نہیں چاہتے تھے جو ان کی فسطائیت تھی اور انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہیں ہونے دیا تھا جس کے خلاف معزول میئرز دوبارہ سپریم کورٹ گئے جس کے حکم پر بلدیاتی ادارے اس وقت بحال کیے گئے تھے جب ان کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کے وزیراعظم نے پنجاب حکومت کے ذریعے پنجاب کے تمام بلدیاتی عہدیداروں کے مالی اختیارات سلب کرائے تھے۔

پی ٹی آئی حکومت نے 2021 تک کے پی میں بلدیاتی انتخابات کرائے مگر مقبولیت ختم ہو چکی تھی اسی خوف سے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات دس سال میں صرف (ن) لیگی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر کرائے تھے اور مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کی طرح بلدیاتی انتخابات کرانے میں الیکشن کمیشن کے مطابق واقعی دلچسپی نہیں رکھتی جس کا ثبوت واضح ہے کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے جا رہے حالانکہ پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کیرہنما سوا سال سے ہیں مگر بلدیاتی انتخابات کو اہمیت نہیں دی جا رہی اور وہ اپنے اپنے ارکان کو کچھ اہمیت دیتے ہیں اور انھیں ہی ترقیاتی فنڈز دیتے ہیں جو غیر قانونی اقدام ہے کیونکہ ترقیاتی فنڈز صرف بلدیاتی اداروں کو آئین کے مطابق دیے جا سکتے ہیں مگر تینوں بڑی پارٹیاں ارکان اسمبلی کو رشوت کے طور پر ترقیاتی فنڈز دیتی آ رہی ہیں جو غیر قانونی اقدام ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں مقبولیت کا دعویٰ بھی کرتی ہے اور بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ بھی ہے اس لیے اسلام آباد اور پنجاب میں غیر آئینی طور بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے جا رہے۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو اس آئینی خلاف ورزی پر کوئی فیصلہ دینا چاہیے اور بلدیاتی اداروں کو آئینی اختیارات بھی دلانے چاہئیں تاکہ صوبائی حکومتوں کی آمریت ختم ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات بلدیاتی انتخابات نہ پی ٹی آئی کی حکومت بلدیاتی اداروں بلدیاتی الیکشن سپریم کورٹ کے الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی پنجاب حکومت اور بلدیاتی پیپلز پارٹی اور پنجاب پنجاب اور کے پی میں کے حکم پر مسلم لیگ حکومت نے نہیں کرا ہیں اور تھی اور کی تھی تھی جس

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • سینماز کی جلد بندش پر تشویش، فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور