data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اگر معافی مانگ لیں تب بھی اب انہیں کبھی اقتدار نہیں ملے گا۔ عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں نام نہاد ہائبرڈ نظام ناکام رہا کیونکہ اس وقت سیاسی اور عسکری قیادت میں ہم آہنگی کا فقدان تھا۔خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت اور عسکری ادارے باہم مشاورت اور ہم آہنگی سے ملک کو بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے نہ صرف ریاستی اداروں کے خلاف جرائم کیے بلکہ اب وہ معافی مانگنے کے باوجود دوبارہ اقتدار میں آنے کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا اگر وہ معافی مانگیں تب بھی انہیں دوبارہ اقتدار نہیں ملے گا، کیونکہ انہوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا پاکستان میں موجودہ ہائبرڈ ماڈل ایک عارضی بندوبست ہے جو معاشی اور حکومتی مسائل کے حل تک نافذ العمل رہے گا، تاہم یہ ماڈل آئینی طور پر رائج نہیں بلکہ عارضی حل ہے۔ خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ کیا اس ماڈل کو اس لیے قبول کیا گیا ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت کے درمیان ٹکرئوا سے بچا جا سکے؟ تو انہوں نے کہا جب تک ہم مسائل سے باہر نہیں نکل جاتے، یہ ماڈل رہے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ اس ہائبرڈ ماڈل میں اسٹیبلشمنٹ کو زیادہ طاقت حاصل ہے اور وضاحت کی کہ یہ ایک مشترکہ نظام ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی شراکت داری ہے، ہم اقتدار کے ڈھانچے میں شریک ہیں۔ دزیردفاع نے آرمی چیف کی امریکی صدر سے ملاقات کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی امریکی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کو مدعو کیا اور ملاقات کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی بحالی اور بھارت کی شکست وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل (جنرل) عاصم منیر کی قیادت کی بدولت ممکن ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری