data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت میں مودی سرکار کے سر پر سوار جنگی جنون نے پورے خطے کو ایٹمی تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر سمیت پورا خطہ شدید خطرات سے دوچار ہوچکا ہے ریاستی دہشت گردی اور فالس فلیگ سے مودی سرکار خطے کو جنگ میں جھونک رہی ہے۔ گلوبل پیس انڈیکس نے صورت حال کے تناظر میں سنگین وارننگ جاری کی ہے۔سڈنی انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس نے ہوشربا رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی خلاف ورزیاں عالمی بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ بھارت کشمیر کو مستقل پْرتشدد خطہ بنا چکا ہے۔ کشمیر دنیا کے بدترین تنازعات میں شامل ہے۔رپورٹ میں جون 2025 تا جون 2026 مقبوضہ وادی میں پرتشدد ہلاکتوں کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔ کشمیر کا تناؤ کسی بھی وقت خطے کو جنگ میں جھونک سکتا ہے۔ بھارتی انتہا پسند اور جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں جنوبی ایشیا دنیا کا دوسرا غیر محفوظ ترین خطہ بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے حالیہ پہلگام حملے پر پاکستان کو بلا ثبوت موردِ الزام ٹھہرایا۔ بھارت نے پاکستانی شہریوں پر حملے سے جنگ کا آغاز کیا، جس پر پاکستان نے شمالی بھارت پر مؤثر دفاعی ردعمل ظاہر کیا اور ایل او سی پر بھی منہ توڑجواب دیا۔رپورٹ میں ان حالیہ جھڑپوں کو خونریز ترین، درجنوں ہلاکتوں کا سبب اور تباہی قرار دیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کشمیریوں پر سنگین آئینی وار تھا۔ لاکھوں قابض بھارتی فوجیوں کی موجودگی سے کشمیر دنیا کا بڑا عسکری زون بن چکا ہے۔1989 سے اب تک 40 ہزار سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں۔ مودی مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا ایجنڈے کو فروغ دے کر کشمیریوں کے حقوق سلب کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا اور ادارے کشمیریوں کی آواز کو دبا رہے ہیں۔ غیر ریاستی عناصر اور فوجی دباؤ کشمیر کو جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیزفائر کی خلاف ورزیوں اور کشیدگی سے مکمل جنگ کا خطرہ ہے۔ مودی کی پالیسیوں سے کشمیر میں تنازع اور جارحیت بڑھی ہے۔ اس طرح کا منفی سیاسی دباؤ اور جنگی سوچ خطے کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رپورٹ میں خطے کو

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا