ایران کے حملے، اسرائیل پھر لرز اٹھا، فوجی مراکز، فضائی اڈے، دفاعی صنعتیں تباہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
تہران، مقبوضہ بیت المقدس(نیوز ڈیسک) ایران نے جنگ کے نویں روز میزائل حملوں کی اٹھارہویں لہر چلا دی جس سے اسرائیل پھر لرز اٹھا، ایران نے آج صبح میزائلوں سے اسرائیل کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جن میں اسرائیلی فوجی مراکز، فضائی اڈے، دفاعی صنعتیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نےاصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کاکوئی اخراج نہیں ہورہا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام نے حیفا، تل ابیب، جنوبی اسرائیل اور شمالی علاقوں میں میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، مقبوضہ بیت المقدس اور ایلات میں بھی سائرن کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ ایک میزائل حیفا کی بندرگاہ کے قریب آ کر گرا، 25 سے 30 کے درمیان میزائل اسرائیل کے مختلف جنوبی و شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس نے تصدیق کی کہ اب تک 27 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 3 کی حالت تشویش ناک ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں تل ابیب، نقب، حیفا اور ہولون میں شدید مادی نقصان ہوا ہے اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، ایک میزائل حیفا میں وزارتِ داخلہ کے ہیڈکوارٹر کے قریب آ گرا۔
پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ حملوں کی 18 ویں لہر میں انتہائی طویل اور وزنی میزائلوں سے مشترکہ حملہ کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق دارالحکومت تل ابیب میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ ایران سے داغے گئے میزائلوں کے کچھ حصے وسطی اسرائیل کے علاقے ڈین گش میں گرے، ان میزائل ٹکڑوں کے باعث ایک رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق تازہ حملوں میں اسرائیل کے 2 فضائی اڈے بھی نشانے پر رہے، ایران کے حیرت انگیز اور بھرپور حملے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
صوابی میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔