مسلم ممالک ایران کی ماضی کی غلطیاں بھلا کر بھرپور ساتھ دیں،تنظیم اسلامی حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں برادر مسلم ملک کا عملی ساتھ دے۔ اگر ٹرمپ پاکستان سے فوجی اڈے مانگتا ہے تو اس کو واشگاف الفاظ میں
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں برادر مسلم ملک کا عملی ساتھ دے۔ اگر ٹرمپ پاکستان سے فوجی اڈے مانگتا ہے تو اس کو واشگاف الفاظ میں ایبسولیوٹلی ناٹ کہا جائے۔اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں قیامت ڈھانے کے بعد اب اسرائیل کی نظر بد مشرق وسطیٰ اور خلیجِ فارس کے دیگر مسلم ممالک پر ہے۔ لبنان اور شام میں تباہی مچانے کے بعد اب ناجائز صہیونی ریاست امریکا کی مکمل معاونت کے ساتھ ایران پر حملے کر رہی ہے جس میں ایران کا بے پناہ نقصان ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جوابی حملوں میں ایران نے بھی اسرائیل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگرچہ ایران نے ماضی میں بہت غلطیاں کیں اور ایسے اقدامات بھی اٹھائے جن سے دیگر مسلم ممالک کو نقصان پہنچا جس کی مذمت کرنا بنتا ہے لیکن اس کے باوجود اس نازک موقع پر تمام مسلم ممالک کو ایران کا عملی طور پرساتھ دینا ہوگا۔ اگر مسلم ممالک ایران کا ساتھ نہیں دیتے تو گویا وہ یہود اور ان کی ناجائز صہیونی ریاست جو فلسطین پر قبضہ کر کے قائم کی گئی ہے کا ساتھ دے رہے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک جلد از جلد او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کریں جس میں ایران پر حملہ کو تمام مسلم ممالک پر حملہ قرار دیا جائے اور اسرائیل کے خلاف ایک فوجی اتحاد قائم کیا جائے جو صہیونیوں اور ان کے پشت پناہوں اور معاونین کو کسی مزید کاروائی کی صورت میں دندان شکن جواب دیں۔ اسرائیل اپنے توسیعی منصوبے یعنی گریٹر اسرائیل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اگر خدانخواستہ ایران کو بھی زیر کر لیا گیا تو اسرائیل کا اگلا نشانہ پاکستان ہوگا۔ جس کا تذکرہ 1967ءمیں اسرائیل کا پہلا وزیراعظم بن گوریان بھی کر چکا ہے اور چند برس قبل موجودہ وزیراعظم نتن یاہو بھی ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی دانت نکالنے کی خواہش کا اظہار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تقاضا کیا گیا ہے کہ پاکستان امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرے جس کے بدلے میں اسے لڑاکا طیاروں، دیگر فوجی سازو سامان اور معاشی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا سچ ہے تو پاکستان کو فوری طور پر امریکی صدر کو واشگاف الفاظ میں ایبسولیوٹلی ناٹ کہا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناجائز صہیونی ریاست دیگر مسلم ممالک تمام مسلم ممالک انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک پر مسلم ممالک کو تنظیم اسلامی جس میں ایران اسرائیل کا اسرائیل کی حملوں میں کر چکا ہے کے بعد اب ایران نے کو نقصان ایران کا فوجی اڈے کا اظہار ایران پر کا ساتھ کا عملی ساتھ دے پر حملہ قائم کی ہے اور اور ان
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین