ملک کے مزید 7 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک کے مختلف علاقوں سے لیے گئے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی نے انسداد پولیو مہم پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے سات اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
قومی ادارہ صحت کے تحت قائم پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع گوادر، کوئٹہ، خیبر پختونخوا کے جنوبی وزیرستان لوئر اور اپر، پنجاب کے شہر راولپنڈی، سندھ کے لاڑکانہ اور میرپورخاص کے سیوریج میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق 8 سے 23 مئی کے دوران ملک بھر سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونے تجزیے کے لیے قومی پولیو لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔ ان میں سے سات اضلاع کے نمونوں میں پولیو وائرس کی قسم وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (WPV1) کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
ادھر ایک مثبت پیشرفت کے طور پر رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاہور اور پشین سے لیے گئے نمونے پولیو وائرس سے پاک قرار پائے ہیں، جو کہ ویکسینیشن مہم کی کامیابی کی ایک امید افزا علامت ہے۔
حکام کے مطابق وائرس کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ ان علاقوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہمات کو مزید مؤثر اور مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین صحت نے زور دیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں، بصورت دیگر وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو ہر بار قطرے ضرور پلوائیں تاکہ آنے والی نسل کو اس لاعلاج مرض سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں پولیو وائرس کی کی موجودگی
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔