پاکستان کے مزید 7 اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
بابرشہزاد: پاکستان کے مزید 7 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔
قومی ادارہ صحت نے مئی میں حاصل کردہ پولیو نمونوں کے نتائج جاری کردیئے جس کے مطابق گوادر، جنوبی وزیرستان (لوئر و اپر) کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
قومی ادارہ صحت کے مطابق کوئٹہ، راولپنڈی، لاڑکانہ اور میرپور خاص کے نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے،مثبت نمونوں میں جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے.
بجلی صارفین کے لئے بڑی خوشخبری
قومی ادارہ صحت کاکہناہے کہ پشین اور لاہور سے لئے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میں پولیو وائرس کی تصدیق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔