سانحہ 12 مئی: سابق میئر کراچی وسیم اختر و دیگر ملزمان عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
کراچی:
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ 12 مئی کے 6 مقدمات میں آئندہ سماعت پر گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ 12 مئی کے 6 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم کے رہنما و سابق میئر کراچی وسیم اختر و دیگر ملزمان پیش ہوئے۔
شریک ملزم ذاکر حسین کے انتقال سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا گیا۔ وکیل صفائی سے نے موقف دیا کہ ملزم ذاکر حسین بیماری کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
ملزم ذاکر حسین کا نام مقدمات سے نکالا جائے۔ تفتیشی افسر نے ملزم ذاکر حسین کی موت سے متعلق ڈیتھ سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے ملزم ذاکر حسین کا نام مقدمات سے الگ کرنے کی ہدایت کردی۔
پراسکیوشن کی جانب سے گواہ عدالت میں پیش نہ ہوسکے، عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے مقدمات کی سماعت 12 جولائی تک ملتوی کردی۔
پولیس کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر سمیت 20 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔ ملزمان کیخلاف ایئر پورٹ پولیس نے 2007 میں مقدمات درج کئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملزم ذاکر حسین عدالت نے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔