ڈیجیٹل ڈیپریشن اور سوشل میڈیا پر مقابلے کا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
آج کے جدید دور میں جہاں زندگی کے بیشتر پہلو ڈیجیٹل ہوچکے ہیں، وہاں انسانی ذہن اورکیفیات بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا کا وجود بظاہر ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنے کا ذریعہ نظر آتا ہے، مگر درحقیقت یہ ہمیں آہستہ آہستہ اندر سے توڑ رہا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہر لمحہ بدلتی تصاویر، کامیاب زندگیوں کی جھلک اور مستقل موجودگی کی طلب، لاشعوری طور پر ایک ایسی نفسیاتی الجھن پیدا کردیتی ہے، جو غیر محسوس ہوتی ہے، لیکن جذباتی طور پر تھکا دیتی ہے۔ اس تھکن کو ڈیجیٹل ڈپریشن کا نام دیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل ڈیپریشن میں مبتلا ہو کر فرد سوشل میڈیا پر دیکھے جانے والے مثالی زندگیوں اور اپنے روزمرہ معمولات کے درمیان فرق سے خود کوکمتر، ناکام اور بے معنی محسوس کرنے لگتا ہے۔
ہر پوسٹ، ہر تصویر، ہرکامیابی کا اعلان کسی نہ کسی طور پر مقابلے کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ یہ مقابلہ براہ راست نہیں ہوتا، مگر دل و دماغ میں ایک خاموش، مسلسل چبھن کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ نوجوان نسل بلا سوچے سمجھے مقابلے کی اس دوڑ میں شامل ہو جاتی ہے۔ ایک نفسیاتی تجزیہ نگار کے مطابق:’’ جب موازنہ مستقل ہو، تو روح بے چین ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے روزمرہ زندگی کو خوبصورتی کے مقابلے، کامیابی کی دوڑ اور مقبولیت کی جنگ میں بدل دیا ہے۔‘‘ مقابلے کی یہ دوڑ نوجوان نسل کی نفسیات پر حاوی ہو چکی ہے۔ وہ اس دور میں شریک ہو کر کئی کئی گھنٹے اپنے وقت کا ضیایع کرتے رہتے ہیں۔
اکثر نوجوان، خاص طور پر 16 سے 30 سال کے درمیان کی عمر کے افراد، اس نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک عام دن میں جب وہ انسٹا گرام یا فیس بک کی طلسماتی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو درجنوں ایسی تصویریں، پوسٹس اور وڈیوز ان کے سامنے آتی ہیں، جن میں خوشی،کامیابی اور خوبصورتی کو نمائش کی حد تک دکھایا جاتا ہے، جب کہ یہ تصاویر حقیقت کے قریب نہیں ہوتیں، بلکہ فلٹرز، زاویوں اور ایڈیٹنگ کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں، مگر دیکھنے والے کے دل میں یہ خیال ضرور جنم لیتا ہے کہ ’’ میں اس قدر خوش کیوں نہیں ہوں؟‘‘ یا ’’میری زندگی اتنی کامیاب کیوں نہیں ہے؟‘‘ایک مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سارہ لیوس کا کہنا ہے:
''People are no longer comparing themselves to who they were yesterday, but to the idealized versions of others that do not even exist in real life.
(ترجمہ: ’’ لوگ اب خود کو اپنے کل سے نہیں بلکہ دوسروں کی ایسی مثالی تصاویر سے موازنہ کر رہے ہیں جو حقیقی زندگی میں وجود ہی نہیں رکھتیں۔‘‘)
یہ صورتحال نہ صرف جذباتی تھکن کا باعث بنتی ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی اس کیفیت کے اثرات دکھائی دیتے ہیں، جو اکثر نیند کی کمی، سستی، بے چینی اور جسمانی درد جیسی علامات کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب فرد مستقل طور پر فون یا کمپیوٹر کی اسکرین سے جُڑا رہتا ہے اور اس کا ذہن ہر وقت موازنہ، حسرت اور بیزاری کے کرب سے گزرتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق، مسلسل اسکرین پر رہنے سے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں، جو خوشی اور تسکین کو پیدا کرتے ہیں اور یوں ڈپریشن کی علامتیں بتدریج گہری ہوتی جاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر مقابلے کا کلچر ایک خاموش زہرکی مانند ہے۔ انسان خود کو مسلسل ایک دوڑ میں بھاگتے محسوس کرتا ہے جہاں ہر کوئی بہتر نظر آنا چاہتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ بہتر کس کے مقابلے میں؟ اور کس کے لیے؟ ہم نہ صرف دوسروں کی تصویروں کو دیکھ کر خود کو کمتر سمجھتے ہیں، بلکہ اپنی زندگی کو بھی انھی پیمانوں سے جانچنے لگتے ہیں جنھیں سوشل میڈیا نے وضع کیا ہے۔ جیسے مہنگی چھٹیاں، لگژری اشیاء، رومانوی تعلقات کی خوش کن جھلکیاں یا جسمانی خوبصورتی کا غیر حقیقی معیار نظر آتا ہے۔
دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔ یہ معلومات فراہم کرنے کا موثر ذریعہ بھی ہے، تخلیق کا پلیٹ فارم بھی اور رابطوں کا وسیلہ بھی۔ لیکن جب اس کا استعمال اعتدال سے باہر ہو جائے، تب یہ نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ جو نوجوان ہر وقت دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کا موازنہ کرتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی انفرادیت کھو دیتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسی دوڑ میں شامل ہوجاتے ہیں جس کی منزل ہی نہیں۔
اس کیفیت سے نکلنے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو اپنی نظر سے دیکھنا سیکھیں، نہ کہ دوسروں کی فلٹر شدہ دنیا سے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ نظر آتا ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہوتا۔ ہر شخص کی زندگی میں دکھ، ناکامی اور کمزور لمحے ہوتے ہیں، مگر وہ دکھ پوسٹ نہیں کیے جاتے۔ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ دوسروں کی کامیابیوں سے متاثر ہونے کے بجائے، ان سے سیکھا جائے، لیکن اپنا راستہ خود چُنا جائے۔
اندھی تقلید بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔اس سے جتنا دور رہا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ خاندان، اسکول اور سماجی اداروں کا کردار ہے۔ نوجوانوں کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں ان کی خودی، تخلیق اور جذبات کی قدر ہو۔ جہاں انھیں یہ سکھایا جائے کہ خوشی اندر سے آتی ہے اورکامیابی کا مطلب صرف شہرت یا پیسہ نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کی تعلیم، خود آگاہی اور ڈیجیٹل اعتدال پر مبنی تربیت اس دور کی اشد ضرورت ہے۔سوشل میڈیا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ہمیں جذباتی پختگی، خود اعتمادی اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ اپنے دل کی سُنیں، اپنی محنت پر یقین رکھیں اور اسکرین پر دکھنے والی دنیا کو محض ایک جھلک سمجھیں، مکمل حقیقت نہیں۔
ڈیجیٹل ڈیپریشن اور سوشل میڈیا پر مقابلے کا بڑھتا رجحان دراصل انسان کے فطری جذبات سے ٹکرا رہا ہے۔ ہمیں اس ٹکراؤ کو پہچاننا ہوگا، سمجھنا ہوگا اور اس کا سامنا کرنا ہوگا۔ صرف تب ہی ہم ایک ایسی دنیا تخلیق کر سکیں گے جہاں اسکرین کے پیچھے بھی ایک مطمئن، خوش اور حقیقی انسان موجود ہو، جو مقابلے کی دوڑ سے آزاد ہو کر اپنی ذات میں واپس لوٹ چکا ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر پر مقابلے کا کی ضرورت ہے دوسروں کی ہوتے ہیں خود کو
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔