ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی دوسری شادی پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں ہورہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی اٹلی کے شہر وینس میں ہونے والی شادی کو لے کر عالمی ماحولیاتی تنظیم گرین پیس اور مقامی کارکنوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایک ارب پتی شخص اپنی تفریح کی خاطر ایک تاریخی اور نازک شہر کو کرائے پر نہیں لے سکتا۔
جیف بیزوس اور صحافی لورا سانچیز کی شادی کو صدی کی شادی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں قریباً 200 مہمان شریک ہوں گے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد جیرڈ کشنر سمیت فلم، فیشن اور کاروبار کی دنیا کی مشہور شخصیات شامل ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کی دوسری شادی پر کتنے ڈالرز خرچ ہوں گے؟
گرین پیس اٹلی اور برطانوی گروپ ’Everyone hates Elon‘ کے کارکنوں نے وینس کے مشہور سینٹ مارک اسکوائر میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر بیزوس کی مسکراتی تصویر کے ساتھ لکھا تھا۔ ’اگر تم وینس کو اپنی شادی کے لیے کرائے پر لے سکتے ہو، تو تم زیادہ ٹیکس بھی ادا کر سکتے ہو۔‘
اس دوران پولیس موقع پر پہنچی، مظاہرین کی شناخت چیک کی اور بعد میں بینر ہٹا دیا گیا۔
احتجاجی کارکن سمونا اباتے نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ صرف شادی کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو امیروں کو ہر چیز خریدنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایک شخص کو پورا شہر اپنی تفریح کے لیے کرائے پر نہیں لینا چاہیے۔
وینس کے میئر لوئیجی بروگنارو اور علاقائی گورنر لوکا زائیا نے بیزوس کی شادی کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ اس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر گونڈولا اور واٹر بوٹس کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔
زائیا نے بتایا کہ شادی پر 20 سے 30 ملین یورو خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جب کہ بیزوس ایک ملین یورو مقامی تحقیقی ادارے کو عطیہ کریں گے جو وینس کے ماحولیاتی نظام پر تحقیق کرتا ہے۔
شہر میں پہلے بھی بیزوس مخالف بینرز سینٹ مارک کی گھنٹی ٹاور اور ریالٹو پل پر آویزاں کیے گئے تھے، جب کہ مقامی افراد نے پرامن احتجاج اور علامتی ناکہ بندی کی دھمکیاں دی تھیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وینس جیسا تاریخی شہر پہلے ہی سیاحت کے بوجھ سے دوچار ہے اور اسے مزید وی آئی پی تقریبات کی بجائے عوامی سہولیات، رہائش اور ماحولیاتی تحفظ کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں آپ کی پرانی شادی کو نئے دور میں خطرہ ہے
شادی کی اصل تاریخ اور مقامات خفیہ رکھے گئے ہیں، تاہم اطلاعات کے مطابق تقریبات26 سے 28 جون کے درمیان ہوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اٹلی بانی ایمازون بڑے پیمانے پر احتجاج جیف بیزوس شادی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلی بانی ایمازون بڑے پیمانے پر احتجاج جیف بیزوس وی نیوز جیف بیزوس بیزوس کی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔