عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10سے 12فیصد اضافہ ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10سے 12فیصد اضافہ ہو گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)عالمی منڈی میں ڈیزل اور پیٹرول سپلائی جہازوں کے فریٹ (کرایوں)میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا۔انڈسٹری ذرائع کے مطابق جہازوں کے فریٹ میں اضافے سے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد اضافہ ہو گیا۔12 جون کو خلیج فارس سے تیل ترسیل جہاز کا کرایہ تقریبا 14 ڈالرز فی ٹن تھا، آج تقریبا 21 ڈالرز ہے۔
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پیٹرول نرخ 76 ڈالرز سے بڑھ کر 82 ڈالرز فی بیرل ہو گیا ہے جبکہ ڈیزل کے ریٹ 82 ڈالرز فی بیرل سے بڑھ کر 93 ڈالرز فی بیرل ہو گئے۔ذرائع کے مطابق جہازوں کے تیل جے پی ون کا ریٹ 80 ڈالرز سے بڑھ کر 90 ڈالرز فی ٹن ہو گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی حملے کے بعد حکومت صدر ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش واپس لے،سینیٹ میں قرارداد جمع امریکی حملے کے بعد حکومت صدر ٹرمپ کیلئے نوبل انعام کی سفارش واپس لے،سینیٹ میں قرارداد جمع بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع، نوٹم جاری ایران پر امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں 2سپر آئل ٹینکرز نے راستہ بدل لیا بانی پی ٹی آئی نے حکم دیا تو ایک منٹ میں اسمبلی ختم کردوں گا، علی امین گنڈا پور غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری، 24گھنٹوں میں مزید 51فلسطینی شہید کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل،نیب خیبرپختونخوا کا اعظم سواتی کی عدم پیشی پر دوسرا نوٹس جاری کرنے کا عندیہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیزل اور پیٹرول عالمی منڈی میں اضافہ ہو گیا ڈالرز فی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔