دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) کی قدر میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔رپورٹس کے مطابق، بٹ کوائن کی قیمت 6.7 فیصد کمی کے بعد 99,936 ڈالر تک گر گئی — یہ جون کے بعد پہلا موقع ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ ڈالر کی حد سے نیچے چلی گئی۔گزشتہ ماہ بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے مارکیٹ میں 20 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، بٹ کوائن کے ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں (cryptocurrencies) پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایتھیریم (Ethereum) کی قیمت میں 10 فیصد جبکہ ایکس آر پی (XRP) کی قدر میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔بٹ کوائن کی اس کمی کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس (US stock markets) میں بھی مندی کا رجحان رہا، جہاں S&P 500 انڈیکس میں 1.

2 فیصد اور نیسڈیک (Nasdaq) میں 2 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق، ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی غیر یقینی صورتحال اور محتاط رویہ ہے، جس نے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی کی قیمت کے بعد

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ