دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) کی قدر میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔رپورٹس کے مطابق، بٹ کوائن کی قیمت 6.7 فیصد کمی کے بعد 99,936 ڈالر تک گر گئی — یہ جون کے بعد پہلا موقع ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ ڈالر کی حد سے نیچے چلی گئی۔گزشتہ ماہ بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے مارکیٹ میں 20 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، بٹ کوائن کے ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں (cryptocurrencies) پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایتھیریم (Ethereum) کی قیمت میں 10 فیصد جبکہ ایکس آر پی (XRP) کی قدر میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔بٹ کوائن کی اس کمی کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس (US stock markets) میں بھی مندی کا رجحان رہا، جہاں S&P 500 انڈیکس میں 1.

2 فیصد اور نیسڈیک (Nasdaq) میں 2 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق، ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ سرمایہ کاروں کی غیر یقینی صورتحال اور محتاط رویہ ہے، جس نے عالمی کرپٹو مارکیٹ میں اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی کی قیمت کے بعد

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ