بٹ کوائن کریش! 4 ماہ کی کم ترین سطح پر قیمت، سرمایہ کاروں میں کھلبلی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن (Bitcoin) کی قدر میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔رپورٹس کے مطابق، بٹ کوائن کی قیمت 6.7 فیصد کمی کے بعد 99,936 ڈالر تک گر گئی — یہ جون کے بعد پہلا موقع ہے جب بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ ڈالر کی حد سے نیچے چلی گئی۔گزشتہ ماہ بٹ کوائن کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے مارکیٹ میں 20 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، بٹ کوائن کے ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں (cryptocurrencies) پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایتھیریم (Ethereum) کی قیمت میں 10 فیصد جبکہ ایکس آر پی (XRP) کی قدر میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔بٹ کوائن کی اس کمی کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس (US stock markets) میں بھی مندی کا رجحان رہا، جہاں S&P 500 انڈیکس میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بٹ کوائن کی کی قیمت کے بعد
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔