قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد خواجہ آصف کی بات کرنے سے معذرت، کانوں کو ہاتھ لگا لیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرنے سے گریز کیا اور سوالات سن کر کانوں کو ہاتھ لگا لیے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا، مسلح افواج کے سربراہان اور حساس اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ، اور اس کے نتیجے میں خطے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات، بالخصوص امریکا کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر جب وزیر دفاع خواجہ آصف واپس روانہ ہو رہے تھے تو صحافیوں نے ان سے گفتگو کی کوشش کی، تاہم انہوں نے بات کرنے سے صاف معذرت کرتے ہوئے صرف مسکراتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگا لیے اور گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔
واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بات سے گریز بات کرنے سے معذرت خواجہ آصف قومی سلامتی کمیٹی کانوں کو ہاتھ وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بات سے گریز بات کرنے سے معذرت خواجہ ا صف قومی سلامتی کمیٹی کانوں کو ہاتھ وزیر دفاع وی نیوز قومی سلامتی کمیٹی کانوں کو ہاتھ بات کرنے سے
پڑھیں:
ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔
محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔