عالیہ سومرو کو لیاری کی باکسر نے فائٹ کا چلینج دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
پاکستان کی پہلی خاتون پروفیشنل باکسر ہونے کی دعویدار عالیہ سومرو کو لیاری ہی سے تعلق رکھنے والی ویمن باکسر نے چیلنج کر دیا۔
لائٹ فلائی ویٹ میں قومی سلور میڈلسٹ 19 سالہ گوہر تاج نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں تھائی لینڈ میں پروفیشنل فائٹ جیت کر بیلٹ حاصل کرنے کی دعوی کرنے والی عالیہ سومرو کو کھلا چیلنج کرتی ہوں، وہ پاکستان کے کسی بھی مقام پر مجھ سے مقابلہ کر لیں۔
پاکستان نیوی سے تعلق رکھنے والی بین الصوبائی اور سندھ کی گولڈ میڈلسٹ گوہر تاج نے کہا کہ 21 سالہ عالیہ سومرو سے مقابلے کے بعد ثابت ہو جائے گا کہ کون بہتر باکسر ہے۔
واضح رہے کہ ضلعی سطح کی خاتون باکسر عالیہ سومرو نے پہلی پروفیشنل خاتون باکسر ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ وہ سندھ حکومت کی مالی معاونت سے دبئی میں بھارتی حریف سے بھی مقابلہ کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالیہ سومرو
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔