کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والی عالیہ سومرو نے کہا ہے کہ میں پروفیشنل باکسر ہوں، مجھے ایک شخص مسلسل ہراساں کررہا ہے۔

اپنے ویڈیو بیان میں عالیہ سومرو نے کہا کہ کچھ تعصب پرست عناصر کو میری جیت ہضم نہیں ہو رہی اور مجھے مسلسل تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،تعصب پرست عناصر پروفیشنل باکسنگ کو جعلی قرار دے کر جھوٹی خبریں پھیلا کر پروپیگنڈا کر کے بدنام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

خاتون باکسر نے کہا کہ میں نے کبھی ورلڈ چیمپئن ہونے کا دعوی نہیں کیا تاہم عالمی سطح پر باکسنگ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ عورت صرف باورچی خانے تک محدود رہے، مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے ذمہ داران میرے لیے قابل احترام ہیں۔

عالیہ سومرو نے کہا کہ فیڈریشن کو میرے متعلق گمراہ کیا جا رہا ہے، پروفیشنل باکسنگ کی اندرونی لڑائی سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی فیڈریشن کے اندرونی معاملات سے کوئی لینا دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا تعلق پروفیشنل باکسنگ سے ہے، جس کے لیے میں دن رات محنت کر رہی ہوں، میں لیاری سے تعلق رکھتی ہوں اور مزدور کی بیٹی ہوں جبکہ سندھ کا ڈومیسائل بنا ہوا ہے، میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیا سندھ کی بیٹی کا عالمی سطح پر آنے کا کوئی حق نہیں، میں پاکستان کی پہلی ویمن پروفیشنل باکسر ہوں اور تھائی لینڈ میں رینکنگ فائٹ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا، پورے ملک میں مجھے سراہا گیا ہے اور سندھ حکومت نے میری مدد بھی کی ہے۔

عالیہ سومرو نے کہا کہ دبئی میں بھارتی باکسر کے خلاف شیڈول باکسنگ فائٹ کے لیے سندھ حکومت نے میری مدد بھی کی ہے، وزیراعلیٰ سندھ اور لیاری کے تمام منتخب نمائندوں کی میں شکر گزار ہوں،مجھے اور میرے خاندان کی جان کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

عالیہ سومرو نے الزام عائد کیا کہ ایک شخص مجھے مسلسل ہراساں کر رہا ہے، میں سندھ حکومت، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر سے اپیل کرتی ہوں کہ مجھے قانونی مدد فراہم کریں اور قانون کو حرکت میں لائیں،میں ایک باکسر ہوں، مجھے اپنے کھیل پر توجہ دینے دی جائے۔

انہوں نے اپیل کی کہ قوم چند تعصب پرست افراد پر دھیان نہ دے بلکہ مجھے سپورٹ کرے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عالیہ سومرو نے کہا نے کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود