Jasarat News:
2026-06-03@05:14:09 GMT

بینظیر خیرات فنڈ 715 ارب روپے مختص

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پیپلز پارٹی کے وارث چیئرمین بلاول زرداری فرماتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک انقلابی پروگرام ہے اور دنیا اس کو مانتی ہے ہمیں دنیا کا تو علم نہیں لیکن اپنے برادر اسلامی ملک بنگلا دیش کا حال بتاتے ہیں کہ بنگلا دیش کے پارلیمنٹیرین نے ایسی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے ملک کی خواتین کو بھکاری نہیں بنا سکتے انہیں ہم باعزت روزگار فراہم کریں گے اور آج یہ عالم ہے کہ بنگلا دیش میں 35 لاکھ خواتین گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کر کے باعزت روزی روٹی کما رہی ہے اور ہمارے ملک پاکستان میں تقریباً 60 لاکھ خواتین ہر ماہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی خیرات لینے کے لیے بینکوں کے باہر لائن لگا کر بلکہ تھال مار کر بیٹھی ہوئی ہوتی ہے بلاول زرداری فرماتے ہیں کہ ہم اس پروگرام کو آگے تک لے جانا چاہتے ہیں اور یہ غربت مٹاؤ پروگرام بہت آگے جائے گا۔ ہم بلاول زرداری سے پوچھتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جولائی 2008 میں شروع ہوا تھا اس وقت سے اب تک پورا ملک تو چھوڑیں صرف سندھ سے کتنی غربت مٹائی؟ غربت تو دور کی بات خیرات فنڈ کی رقم اور خیرات لینے والوں کی تعداد میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ 2023؍24 میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 450 ارب روپے مختص کی گئی تھی اور آج 2025؍26 کے بجٹ میں یہ رقم بڑھ کر 715 ارب رکھی گئی ہے اگر اس خیراتی رقم میں اضافے کی یہی تیز رفتاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ارب کراس کر کے کھرب میں تبدیل ہو جائے۔
ہماری ناقص رائے میں تو اس پروگرام کو 2019 میں ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ 08 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد اس پروگرام سے مستفیض ہو رہے ہیں ان 08 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین تھے مزید اس میں گریڈ 17 سے گریڑ 21 تک کے 2543 افسران بھی اس بہتی گنگا سے اشنان کر رہے تھے اور اس 2543 افراد میں سے بے نظیر کے دیس سندھ کے 1122 افراد بھی شامل تھے یعنی 45 فی صد سندھ اور بقیہ 55 فی صد تین صوبے کے افراد تھے یہی نہیں بلکہ ان میں ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی نے بھی جگہ بنا رکھی تھی اور ایک خبر یہ بھی آئی تھی کے یہ وظیفہ لینے والوں میں سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی صاحبزادی جو اس وقت سندھ کی وزیر اطلاعات تھیں مستفیض ہو رہی تھی اس کی ایک اور نظیر یہ بھی ہے کہ 2019 میں ہی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی تخفیف غربت و سماجی ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 19 ارب روپے غیر مستحق افراد میں تقسیم کیے گئے اتنی کرپشن اور اتنی لوٹ مار جس میں زیادہ تر جیالے ہی شامل تھے کو جواز بنا کر یہ سلسلہ یہیں ختم کیا جا سکتا تھا مگر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے حواریوں نے یہ بہتر جانا کہ ہم بھی اپنے کھلاڑیوں کو یہ موقع فراہم کریں چنانچہ احساس پروگرام جاری کر دیا گیا اور یوں کھلاڑی بھی جیالوں کی طرح کھل کر کھیلنے لگے اب کسی میں ہمت نہیں کہ اس سلسلے کو ختم کر سکے۔
ہمارا یہاں پر ایک مشورہ ہے کہ اس پروگرام کو حکومت سندھ کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ یہ پروگرام بے نظیر کے نام سے منسوب ہے اور بے نظیر بھٹو ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو اب پاکستان کے نہیں صرف سندھ کے لیڈر رہ گئے ہیں جس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ اب ان کے یوم وفات پر صرف سندھ میں عام تعطیل ہوتی ہے پھر حکومت سندھ جتنا بھی چاہے فنڈ مختص کر سکتی ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ان 750 اربوں کو خیرات میں تقسیم کرنے کے بجائے اس سے سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے یعنی ہر صوبے میں ایک ایک لیڈیز انڈسٹریل زون بنایا جائے جہاں ایسی خواتین کو ملازمت فراہم کر کے باعزت روزگار دیا جائے جس سے ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور یوں نہ صرف ملک کے لیے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے اور آئندہ برسوں میں کسی قسم کی رقم مختص کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی اور یہ 715 ارب کی سرمایہ کاری آنے والے وقتوں تک کام آئے گی مگر یہ کام حکمرانوں کا ہے کہ وہ عوام کومعزور بنانا چاہتے ہیں یا ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں یہاں ہمیں سوشل میڈیا پر چلا ایک ٹویٹ یاد آرہی ہے جس میں تحریر تھا ’’جس ملک میں خیرات تقسیم کرنے کے لیے 715 ارب روپے رکھے جائیں اور تعلیم کے لیے صرف 18.

5 ارب روپے ایسے ملک میں ذاکٹر انجینئر اور سائنسدان نہیں صرف بھکاری ہی پیدا ہوں گے‘‘۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس پروگرام ارب روپے سندھ کے ہیں کہ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری