بینظیر خیرات فنڈ 715 ارب روپے مختص
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیپلز پارٹی کے وارث چیئرمین بلاول زرداری فرماتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک انقلابی پروگرام ہے اور دنیا اس کو مانتی ہے ہمیں دنیا کا تو علم نہیں لیکن اپنے برادر اسلامی ملک بنگلا دیش کا حال بتاتے ہیں کہ بنگلا دیش کے پارلیمنٹیرین نے ایسی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے ملک کی خواتین کو بھکاری نہیں بنا سکتے انہیں ہم باعزت روزگار فراہم کریں گے اور آج یہ عالم ہے کہ بنگلا دیش میں 35 لاکھ خواتین گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کر کے باعزت روزی روٹی کما رہی ہے اور ہمارے ملک پاکستان میں تقریباً 60 لاکھ خواتین ہر ماہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی خیرات لینے کے لیے بینکوں کے باہر لائن لگا کر بلکہ تھال مار کر بیٹھی ہوئی ہوتی ہے بلاول زرداری فرماتے ہیں کہ ہم اس پروگرام کو آگے تک لے جانا چاہتے ہیں اور یہ غربت مٹاؤ پروگرام بہت آگے جائے گا۔ ہم بلاول زرداری سے پوچھتے ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جولائی 2008 میں شروع ہوا تھا اس وقت سے اب تک پورا ملک تو چھوڑیں صرف سندھ سے کتنی غربت مٹائی؟ غربت تو دور کی بات خیرات فنڈ کی رقم اور خیرات لینے والوں کی تعداد میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ 2023؍24 میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 450 ارب روپے مختص کی گئی تھی اور آج 2025؍26 کے بجٹ میں یہ رقم بڑھ کر 715 ارب رکھی گئی ہے اگر اس خیراتی رقم میں اضافے کی یہی تیز رفتاری رہی تو وہ دن دور نہیں جب ارب کراس کر کے کھرب میں تبدیل ہو جائے۔
ہماری ناقص رائے میں تو اس پروگرام کو 2019 میں ہی ختم ہو جانا چاہیے تھا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ 08 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد اس پروگرام سے مستفیض ہو رہے ہیں ان 08 لاکھ 20 ہزار غیر مستحق افراد میں سے ایک لاکھ 40 ہزار سرکاری ملازمین تھے مزید اس میں گریڈ 17 سے گریڑ 21 تک کے 2543 افسران بھی اس بہتی گنگا سے اشنان کر رہے تھے اور اس 2543 افراد میں سے بے نظیر کے دیس سندھ کے 1122 افراد بھی شامل تھے یعنی 45 فی صد سندھ اور بقیہ 55 فی صد تین صوبے کے افراد تھے یہی نہیں بلکہ ان میں ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی نے بھی جگہ بنا رکھی تھی اور ایک خبر یہ بھی آئی تھی کے یہ وظیفہ لینے والوں میں سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی صاحبزادی جو اس وقت سندھ کی وزیر اطلاعات تھیں مستفیض ہو رہی تھی اس کی ایک اور نظیر یہ بھی ہے کہ 2019 میں ہی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی تخفیف غربت و سماجی ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 19 ارب روپے غیر مستحق افراد میں تقسیم کیے گئے اتنی کرپشن اور اتنی لوٹ مار جس میں زیادہ تر جیالے ہی شامل تھے کو جواز بنا کر یہ سلسلہ یہیں ختم کیا جا سکتا تھا مگر اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے حواریوں نے یہ بہتر جانا کہ ہم بھی اپنے کھلاڑیوں کو یہ موقع فراہم کریں چنانچہ احساس پروگرام جاری کر دیا گیا اور یوں کھلاڑی بھی جیالوں کی طرح کھل کر کھیلنے لگے اب کسی میں ہمت نہیں کہ اس سلسلے کو ختم کر سکے۔
ہمارا یہاں پر ایک مشورہ ہے کہ اس پروگرام کو حکومت سندھ کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ یہ پروگرام بے نظیر کے نام سے منسوب ہے اور بے نظیر بھٹو ہوں یا ذوالفقار علی بھٹو اب پاکستان کے نہیں صرف سندھ کے لیڈر رہ گئے ہیں جس کا واضع ثبوت یہ ہے کہ اب ان کے یوم وفات پر صرف سندھ میں عام تعطیل ہوتی ہے پھر حکومت سندھ جتنا بھی چاہے فنڈ مختص کر سکتی ہے اور اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ان 750 اربوں کو خیرات میں تقسیم کرنے کے بجائے اس سے سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے یعنی ہر صوبے میں ایک ایک لیڈیز انڈسٹریل زون بنایا جائے جہاں ایسی خواتین کو ملازمت فراہم کر کے باعزت روزگار دیا جائے جس سے ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور یوں نہ صرف ملک کے لیے زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے اور آئندہ برسوں میں کسی قسم کی رقم مختص کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی اور یہ 715 ارب کی سرمایہ کاری آنے والے وقتوں تک کام آئے گی مگر یہ کام حکمرانوں کا ہے کہ وہ عوام کومعزور بنانا چاہتے ہیں یا ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں یہاں ہمیں سوشل میڈیا پر چلا ایک ٹویٹ یاد آرہی ہے جس میں تحریر تھا ’’جس ملک میں خیرات تقسیم کرنے کے لیے 715 ارب روپے رکھے جائیں اور تعلیم کے لیے صرف 18.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس پروگرام ارب روپے سندھ کے ہیں کہ ہے اور کے لیے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔