data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ اب امریکا کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، وہ عالمی تنازعات کو ختم کرانے کی کوشش کریں گے، اس ضمن میں انہوں نے روس- یوکرین جنگ اور اسرائیل – حماس تنازع کا خصوصی حوالہ دیا تھا لیکن صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کے اعلانات اور اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر ایک انتہائی کمزور شخص بیٹھا ہے، جسے اپنے الفاظ کی حرمت و اہمیت کا کچھ پاس نہیں، جو کہتا کچھ ہے کرتا کچھ ہے، اسے بار بار دنیا کو دھوکا دینا پڑتا ہے، وہ دنیا کے ان عظیم انسانوں کے بالکل برعکس جو کوئی وعدہ کر لیتے تھے تو ہر قیمت پر اسے نباہتے تھے، صدر ٹرمپ نہ روس – یوکرین جنگ رکوا پائے نہ اسرائیل کو غزہ پر ظلم کے پہاڑ توڑنے سے روک سکے حتیٰ کہ اب خود امریکی طیاروں نے ایران پر حملہ کر کے اس کے تین ایٹمی مراکز فردو، نطنز اور اصفہان کو تباہ کر دیا ہے، اس حملے کی اقوام متحدہ سے منظوری نہیں لی گئی تھی یعنی دنیا میں پھر سے ہزاروں سال پرانا ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون نافذ ہو گیا ہے امریکا نے صرف اس بنیاد پر کہ وہ طاقتور ہے یہ سمجھ لیا ہے کہ باقی تمام اقوام کو اس کے احکام ماننے لازم ہیں فرعون نے جب کہا تھا ’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘ تو اس کے ذہن میں بھی یہی تھا کہ میں طاقتور ہوں جسے چاہوں مار سکتا ہوں جسے چاہوں زندگی بخش سکتا ہوں۔
ایرانی ایٹمی مراکز کی تباہی پر امریکا کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے ایران غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی مدد سے بہت عرصے پہلے ہی دست کش ہو چکا ہے اب اس کے ایٹمی مراکز بھی ختم کر دیے گئے ہیں اس لیے اب اسرائیل کے پاس ایران پر مزید حملوں کا کوئی جواز نہیں رہا، کیا اب اسرائیل ایران کے خلاف جارحیت روک دے گا یا اسے مزید تباہ کرنے کے لیے کوئی نیا بہانہ گھڑے گا یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے البتہ ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور اس نے اس سلسلے میں بعض بڑے یورپی ملکوں کو مثبت جواب بھی دیا ہے۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے پاکستان میں بعض حلقوں نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ رکوانے کا سہرا صدر ٹرمپ نے اپنے سر باندھا تھا ان کا یہ موقف پاکستان نے فوری طور پر قبول کر لیا تھا جبکہ بھارت نے اس سے یکسر انکار کیا تھا کیونکہ بھارت کا بہت قدیم موقف ہے کہ وہ پاک بھارت تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر میں کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کرے گا، وہ مسئلہ کشمیر کو محض دو طرفہ مسئلہ سمجھتا ہے، صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ پاکستان اور بھارت نے ان کے کہنے پر جنگ روکی ہے، ہندوستان میں بہت شور مچا تھا اس کے جواب میں بھارتی حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ جنگ صدر ٹرمپ کے کہنے پر نہیں پاک- بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز
کے درمیان رابطوں کے نتیجے میں روکی گئی تھی جن میں پاکستان نے لڑائی بند کرنے کی درخواست کی تھی اگر صدر ٹرمپ کو نوبل انعام دیا جاتا ہے تو یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ پاک بھارت جنگ امریکی صدر کے کہنے پر روکی گئی تھی اور بھارتی حکومت کا جھوٹ ثابت ہو جائے گا جس سے موجودہ بھارتی حکومت کو اندرون ملک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب ملک کے بیش تر رہنما اور دانشور پاکستان کی جانب سے امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی کو غلط، خوشامد اور ظلم و ستم کو جائز ثابت کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، ان کے خیال میں مودی حکومت کو جھوٹا ثابت کرنا پاکستان کے لیے اتنا بڑا فائدہ نہیں کہ جس کے لیے ٹرمپ کی امن انعام کے لیے نامزدگی جیسی خوفناک غلطی کی جائے، اس ضمن میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کی ثالثی کو تسلیم کرنا غیر معمولی خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق وہ انتہائی دھوکے باز، دوغلے اور مفاد پرست ثابت ہو چکے ہیں۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی تقی عثمانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے، انہوں نے ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا دوسرے ملکوں کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا امن انعام کا مستحق ہو سکتا ہے؟ انہوں نے ایران پر حملے کی بھی سخت مذمت کی اور اسے ٹرمپ کے وعدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پیس پرائس کے لیے نامزد کرنے پر شدید تنقید کی اور اس اقدام کو افسوسناک، قومی وقار کے منافی اور غلامانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کا سرپرست ہے، امریکا ایران پر حملوں کے لیے اسرائیل کو تمام سہولتیں دے رہا ہے، ٹرمپ نے یوکرین کی جنگ ختم نہیں کرائی بلکہ آگ مزید بھڑک رہی ہے، پورے مشرق وسطیٰ کا امن تباہ کر دیا گیا ہے اور حکومت امریکی صدر کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر رہی ہے، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے حکومت امریکی صدر کو نوبل پرائز کے لیے نامزدگی کی سفارش واپس لے انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے دوستی چاہتے ہیں غلامی نہیں، ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں، عراقیوں اور افغانوں کا خون رس رہا ہے ایران پر حملہ کر کے ٹرمپ نے قومی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، خیبر پختون خوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا غلامی کی آخری حد ہے، شہباز شریف خوشامد چھوڑ کر ایبسولیوٹلی ناٹ کہنے کی ہمت پیدا کریں انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کی قراردادوں کو 8 مرتبہ ویٹو کیا ہے، ایران اور اسرائیل میں ثالثی کے بجائے معصوم شہریوں پر بم برسائے جا رہے ہیں جو شخص مسلمانوں پر بم برسائے اسے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا ناقابل فہم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر کو نوبل امن انعام کے لیے ٹرمپ کو نوبل ایٹمی مراکز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران پر ٹرمپ کے اور اس

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم