ایران نے خلیجی ممالک اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، ایران نے اس کارروائی کو ’بشارتِ فتح‘ کا نام دیا گیا ہے، ایران کی جانب سے یہ کارروائی جوہری تنصیبات پر مبینہ امریکی حملے کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا آپریشن ’بشارت فتح‘ کا آغاز، قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیے

رپورٹس کے مطابق قطر میں واقع العدید ائیربیس پر ایران کی جانب سے 6 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ دوحہ میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ غیر ملکی میڈیا نے بھی ان دھماکوں کی تصدیق کی ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ادھر عراق میں موجود امریکی اڈوں کو بھی ممکنہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدید ہوگئی ہے۔ ’بشارتِ فتح‘نامی اس کارروائی کو ایران کی عسکری حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف جوابی کارروائی کرنا ہے بلکہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران-اسرائیل کشیدگی: دونوں ممالک کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے؟

اس پیشرفت سے مشرق وسطیٰ میں ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے اور عالمی برادری کو اب ممکنہ وسیع تر تنازعے کے خطرے کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں فوری کمی نہ آئی تو صورتحال عالمی امن کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل امریکا ایران بیلسٹک میزائل عراق فوجی کارروائی قطر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران بیلسٹک میزائل فوجی کارروائی

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی