اسرائیل-ایران جنگ بندی: پی آئی اے کا مشرق وسطیٰ کے لیے فلائٹ آپریشن بحال
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے لیے اپنا فضائی آپریشن مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔ پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق تمام پروازیں اب شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی، اور مسافر اپنی پروازوں سے متعلق معلومات کے لیے پی آئی اے انکوائری دفاتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
جنگی کشیدگی کے باعث پی آئی اے نے گزشتہ دنوں بحرین، قطر، دبئی، ابو ظہبی، مدینہ اور جدہ سمیت متعدد خلیجی شہروں کے لیے فضائی آپریشن عارضی طور پر موخر کر دیا تھا۔ اب خطے میں صورتحال معمول پر آنے کے بعد فضائی سرگرمیوں کی تدریجی بحالی شروع ہو چکی ہے۔
فضائی آپریشن بحال ہونے کے بعد اسلام آباد سے دمام جانے والی پرواز PK-245 پندرہ گھنٹے تاخیر کے بعد ساڑھے 12 بجے روانہ ہوئی۔ کراچی تا مدینہ پرواز PK-743 ساڑھے چودہ گھنٹے تاخیر کے بعد دوپہر 1 بجے اور لاہور سے مدینہ پرواز PK-713 سات گھنٹے تاخیر سے دوپہر 1 بجے روانہ ہوئی۔
اسی طرح سیالکوٹ سے شارجہ پرواز PK-209 بھی 15 گھنٹے تاخیر سے دوپہر 1 بجے، ملتان سے دبئی کی پرواز PK-221 اور سیالکوٹ تا دوحہ پرواز PK-251 بھی روانہ ہو چکی ہیں۔
فضائی آپریشن کی بحالی کے بعد کراچی سے جدہ جانے والی پرواز PK-761 اور اسلام آباد سے ابو ظہبی جانے والی پرواز PK-261 بھی شیڈول کے مطابق روانہ ہوئیں۔
جنگ بندی کے بعد اب خطے میں صورتحال قدرے معمول پر آنے لگی ہے، جس کے پیش نظر پی آئی اے نے اپنی بین الاقوامی پروازوں کو بحال کر دیا ہے۔
عالمی امن انڈیکس 2025: بھارت کی کشمیر میں عسکری جارحیت ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گھنٹے تاخیر پی ا ئی اے پرواز PK کے بعد کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔