بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم کے بیان پر وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور کا ردعمل آگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم کے بیان پر وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور کا ردعمل آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم کے بیان پر وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور کا ردعمل آگیا۔وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور نے جواب میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی ہمارا لیڈر ہے ان کا جو بیان آئے گا اس پر من و عن عمل کا پابند ہوں۔انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے کیا ہمیں وہ قبول ہو گا اس معاملے پر بار بار بات کر کے ایشو نہ بنایا جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ سے صحافی نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا بجٹ منظوری کے بغیر پاس نہ کریں تو کیا وہ مائنس ہوگئے ہیں۔ جواب میں علیمہ خانم نے کہا کہ میرا خیال ہے مائنس بانی پی ٹی آئی ہوگیا ہے۔
صحافی نے پوچھا کہ کے پی ممبران کہتے ہیں علی امین گنڈا پور طاقتور ہیں انہیں نہ نہیں کہہ سکتے، جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کے پی ممبران اسمبلی بوجھ نہیں اٹھا سکتے تو گھر چلے جائیں۔علیمہ خانم نے کہا کہ پولیس نے اڈیالہ جیل جانے سے روکنا ہے تو روکے ہم نہیں ڈرتے، عمران خان نے خطے کی صورتحال پر متحد رہنے کا پیغام دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی پروا نہیں عمران خان نے جو کہا وہ ہمارے لیے اہم ہے، نہیں معلوم بجٹ پاس کرنے کی کیا جلدی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ایچ اے کے مری شہر میں سجاوٹ اور ہارٹیکلچر بارے خصوصی اقدامات پی ایچ اے کے مری شہر میں سجاوٹ اور ہارٹیکلچر بارے خصوصی اقدامات میرا خیال ہے مائنس عمران خان ہی ہوگیا ہے،علیمہ خان اسلام آباد سفر کیلئے 5600روپے دینے پر ہاکی ٹیم کے کپتان نے اسپورٹس بورڈ کی دعوت ٹھکرادی مخصوص نشستیں نظر ثانی کیس،حامد خان نے التوا کی درخواست دائر کردی بھارتی آبی جارحیت، گنگا معاہدہ معطل کرکے بنگلا دیش کا پانی روکنے کی تیاری ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیسے ہوئی؟ تفصیلات سامنے آگئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی کے پی علی امین گنڈاپور بانی پی ٹی آئی کی علیمہ خانم
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔