سیز فائر کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
فوٹو فائل
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستان نے تمام سفارتی فورمز پر ایران کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ایران اور اسرائیل میں سیز فائر کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے رابطہ کیا اور امن کی بحالی کےلیے مذاکرات اور سفارتکاری پر زور دیا۔
ایران کے جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ جوہری صنعت کی بحالی کے پیشگی انتظامات کیے جاچکے ہیں۔
شہباز شریف نے مسعود پزشکیان سے گفتگو میں تمام سفارتی فورمز پر ایران کےلیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ایرانی صدر نے حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی مستقل اور اصولی حمایت پر شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
مسعود پزشکیان نے اعتراف کیا کہ تنازع کے پرامن حل کو فروغ دینے میں پاکستان نے تعمیر کردار ادا کیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس مشکل وقت میں امت کے درمیان اتحاد کی اہمیت اور باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایرانی صدر شہباز شریف
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا