Jasarat News:
2026-07-24@02:13:28 GMT

سندھ اسمبلی میں 156 ارب روپے مالیت کا ضمنی بجٹ منظور

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

سندھ اسمبلی میں 156 ارب روپے مالیت کا ضمنی بجٹ منظور

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ اسمبلی نے ایک سو چھپن ارب روپے مالیت کے ضمنی بجٹ 2025-26 کی منظوری دے دی، اپوزیش کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کر دی گئیں۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے دلچسپ جوابات دیے، ایوان میں طنز و مزاح کا تبادلہ بھی ہوا۔

سندھ اسمبلی نے مالی سال 2025-26 کے لیے 156 ارب روپے مالیت کا ضمنی بجٹ منظور کر لیا۔ حکومت کی جانب سے 84 مطالبات زر پیش کیے گئے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی 735 کٹوتی کی تحاریک کو مسترد کر دیا گیا۔

اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عدالتوں، اسمبلی، گورنر ہاؤس اور قرضوں سے متعلق اخراجات کی وضاحت پیش کی۔ پیٹرول کی قیمتوں پر ایم کیو ایم کے محمد مظاہر کے اعتراض پر مراد علی شاہ نے مہنگائی کو ذمہ دار قرار دیا۔

وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کی تحاریک پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ثقافتی تحائف جیسے اجرک، سندھی ٹوپی اور ہنڈی کرافٹس پر اخراجات کیے گئے۔

ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد کی جانب سے 29 کروڑ روپے کی کٹوتی کی تحریک پر مراد علی شاہ نے دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب اخراجات ہی ایک کروڑ ہیں تو 29 کروڑ کہاں سے آئیں گے؟

اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مطالبہ کیا کہ تمام تحاریک کو سنجیدگی سے سنا جائے کیونکہ یہ محنت سے تیار کی گئی ہیں، تاہم ایوان نے تمام تحاریک مسترد کر دیں۔

اجلاس کے دوران سینئر وزیر شرجیل میمن اور اسپیکر اسمبلی کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ایوان میں طنز و مزاح کا ماحول پیدا ہو گیا۔

ضمنی بجٹ کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس بدھ کی صبح تک ملتوی کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن