قابض شہری و صوبائی حکومت صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے، ایم کیو ایم ارکانِ سندھ اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایک بیان میں متحدہ کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مزید کہا کہ نام نہاد میئر پارٹی ترجمان بننے کے بجائے فرائض منصبی ادا کرنے میں اپنی توانائی سرف کریں تو نقصان سے کسی حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے متوقع بارشوں کے پیشِ نظر خاطر خواہ حفاظتی اقدامات نہ اٹھائے جانے کو نام نہاد شہری و صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہوئے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ متوقع بارشوں کے بڑھتے امکانات اور انتظامی غفلت ایک بار پھر شہر کے مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، مسلسل نشاندہی کے باوجود سڑکوں اور نالوں کی صفائی کے نام پر قابض شہری و صوبائی حکومت صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہی ہے، عرصہ دراز سے گلی کوچوں چوک چوراہوں پر جمع کچرے کے انبار بارشوں میں سہل آمد و رفت کو جام اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں جس کی جانب انتظامیہ کی توجہ بلکل نہیں ہے نیز نالوں پر قائم تجاوزات عمارتوں پر لگے دیوہیکل ہورڈنگس کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے مزید کہا کہ نام نہاد میئر پارٹی ترجمان بننے کے بجائے فرائض منصبی ادا کرنے میں اپنی توانائی سرف کریں تو نقصان سے کسی حد تک محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔