کے پی اسمبلی نے بغیر عمران خان سے علی امین کی ملاقات کے بجٹ منظور کیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال 2025-26 کا بجٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر منظور کرلیا ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے بارہا دعویٰ کیا گیا تھا کہ بجٹ کی منظوری سے قبل عمران خان کی رہنمائی اور مشاورت ضروری ہے، تاہم اس کے باوجود گزشتہ شب اسمبلی نے بجٹ کو منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بجٹ منظوری سے قبل ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ان کی ہدایات کے مطابق بجٹ میں ترامیم کی جائیں گی۔ تاہم یہ ملاقات عدالتی احکامات کے باوجود نہ ہو سکی، اور انہوں نے وفاقی و پنجاب حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی نے 66 محکموں اور اداروں کے لیے 1962 ارب روپے کے مطالبات زر کی منظوری دی۔ ایوان میں اسپیکر کی جانب سے کٹوتی کی تحاریک کو زیر غور نہ لانے پر اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور بجٹ منظوری کا حصہ نہیں بنی۔ اسپیکر نے بعد ازاں کٹوتی کی تمام تحاریک کثرت رائے سے ختم کر دیں۔
نئے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 547 ارب روپے جبکہ مجموعی طور پر 157 ارب روپے کا سرپلس رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حساس ترین صوبے کے وزیراعلیٰ ہونے کے باوجود انہیں چند بار ہی اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت دی گئی، حالانکہ یہ بجٹ ان کی رہنمائی کے بغیر مکمل نہیں ہونا چاہیے تھا۔
دوسری طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا، “میرا خیال ہے مائنس عمران خان ہو چکا ہے”، جس سے اس سیاسی صورتحال پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمبلی نے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن