data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 کراچی: بلوچستان کے رکنِ صوبائی اسمبلی مفتی ہدایت الرحمان کا کمسن بیٹا عبدالباسط کراچی سے لاپتہ ہوگیا۔

اہل خانہ کے مطابق عبدالباسط ملیر کے علاقے سعود آباد میں واقع جامعہ مجید انفیہ نامی مدرسے میں زیر تعلیم تھا اور وہیں قیام پذیر بھی تھا۔

میڈیا کے مطابق اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عبدالباسط آج شام پانچ بجے مدرسے سے اپنے ماموں کے گھر منگھوپیر جانے کے لیے نکلا تھا تاہم وہ تاحال واپس نہیں پہنچا۔

رشتے داروں کے مطابق انہیں شک ہے کہ بچہ ممکنہ طور پر راستہ بھٹک گیا ہے، اسی لیے ابتدائی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت تلاش جاری ہے اور فی الحال پولیس میں باقاعدہ گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔

ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے کہ لڑکے کی گمشدگی کی رپورٹ ابھی درج نہیں کی گئی، تاہم پولیس اہلکار اہل خانہ کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بچے کی تلاش کے لیے قریبی علاقوں میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں اور جلد بازیابی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب گودار سے منتخب ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کی کراچی میں گمشدگی پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے نوٹس لے کر رکن اسمبلی سے رابطہ کیا اور تفصیل پوچھ کر اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس کے بعد سرفراز بگٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے رابطہ کیا اور مولانا ہدایت الرحمان کے بیٹے کی گمشدگی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بازیابی کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار