راولپنڈی میں تین بچے پراسرار حالات میں جاں بحق، ماں کی حالت تشویش ناک
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ بنی کے علاقے میں تین بچے پراسرار حالات میں جاں بحق اور ماں کی حالت بھی غیر ہے جبکہ پولیس نے واقعے کے وجوہات کے تعین کے لیے میتیں پوسٹمارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق بنی کے علاقے محلہ راجا سلطان میں رہائش پذیر سرکاری اسپتال میں ملازمت کرنے والے سالم حسب معمول صبع اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا جبکہ گھر میں ان کی اہلیہ اور 4 سالہ بیٹی، دو سالہ بیٹا اور 8 ماہ کی بیٹی موجود تھیں، جنہیں والدہ نےناشتہ اور دودھ وغیرہ دیا تو کچھ دیر بعد بچوں سمیت والدہ کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی۔
اہل محلہ نے ماں اور بچوں کو اسپتال منتقل کیا تاہم تینوں بچے دم توڑ گئے جبکہ والدہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ماں نے جو ابتدائی بیان دیا اس میں یہ بتایا کہ ناشتے میں رات کا فریج میں رکھا ہوا دودھ بھی بچوں کو دیا تھا، جس کے بعد طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی۔
سی پی او سید خالد ہمدانی نے بنی کے علاقے میں بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پر نوٹس لیا جبکہ ایس پی راول ڈویژن پولیس ٹیم کے ساتھ اسپتال پہنچے۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ تین بچوں کے جسد خاکی اسپتال لائے گئے جن میں 4 سالہ بچی، دو سالہ بچہ اور 8 ماہ کی بچی شامل ہیں جبکہ بچوں کی والدہ بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ اس وقت زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ گھر میں زہریلی شے کھانے یا پینے کے باعث پیش آیا تاہم واقعے کی تحقیقات کے لیے، جائے وقوع سے شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں اور لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں موت کی وجہ کا حتمی تعین کیا جا سکے گا اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔