راولپنڈی:

تھانہ بنی کے علاقے میں تین بچے پراسرار حالات میں جاں بحق اور ماں کی حالت بھی غیر ہے جبکہ پولیس نے واقعے کے وجوہات کے تعین کے لیے میتیں پوسٹمارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی ہیں۔

پولیس کے مطابق بنی کے علاقے محلہ راجا سلطان میں رہائش پذیر سرکاری اسپتال میں ملازمت کرنے والے سالم حسب معمول صبع اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا جبکہ گھر میں ان کی اہلیہ  اور 4 سالہ بیٹی، دو سالہ بیٹا اور 8 ماہ کی بیٹی  موجود تھیں، جنہیں والدہ نےناشتہ اور دودھ وغیرہ دیا تو کچھ دیر بعد بچوں سمیت والدہ کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی۔

اہل محلہ نے ماں اور بچوں کو اسپتال منتقل کیا تاہم تینوں بچے دم توڑ گئے جبکہ والدہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ ماں نے جو ابتدائی بیان دیا اس میں یہ بتایا کہ ناشتے میں رات کا فریج میں رکھا ہوا دودھ بھی بچوں کو دیا تھا، جس کے بعد طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی۔

سی پی او سید خالد ہمدانی نے بنی کے علاقے میں بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پر نوٹس لیا جبکہ ایس پی راول ڈویژن پولیس ٹیم کے ساتھ اسپتال پہنچے۔

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ تین بچوں کے جسد خاکی اسپتال لائے گئے جن میں 4 سالہ بچی، دو سالہ بچہ اور 8 ماہ کی بچی شامل ہیں جبکہ بچوں کی والدہ بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ اس وقت زیر علاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ گھر میں زہریلی شے کھانے یا پینے کے باعث پیش آیا تاہم واقعے کی تحقیقات کے لیے، جائے وقوع سے شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں اور لاشوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں موت کی وجہ کا حتمی تعین کیا جا سکے گا اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت

کراچی:

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے۔

جناح اسپتال کراچی میں چوتھی انٹرنیشنل فیملی پلاننگ سمٹ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کیلئےاسکریننگ کا عمل مزید تیز کردیا گیا ہے، زیادہ سے زیادہ اسکریننگ سے ایچ آئی وی پر جلد قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے حکومت سندھ بھرپور کوششیں کر رہی ہے، ہمیں معلوم ہے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے شعبے میں حال ہی میں نئی بھرتیاں کی گئی ہیں، مزید بھرتیوں کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں، اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے مزید بھرتیوں سے مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اسپتالوں میں میڈیا کی موجودگی کی اجازت نہیں ہوتی، میڈیا سے بات کرنے کے خواہشمند ڈاکٹر اور دیگر افراد اسپتال سے باہر آکر موقف دیں، تمام ڈاکٹرز کو میڈیا سے بات کرنے اور اپنا مؤقف دینے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اسپتال میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرے، میڈیا کی نشاندہی سے ہی ہمیں مدد ملتی ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر خالد شیر کو کہہ دیا ہے اب سے وہ میڈیا کو موقف دیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق