اپنے ایک انٹرویو میں آئی اے ای اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو، معائنے کا عمل دوبارہ شروع ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں یہ سب کیلئے فائدہ مند ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ IAEA کے ڈائریکٹر جنرل "رافائل گروسی" نے کہا کہ ہمارے ادارے کو ایران کی ذخیرہ شدہ یورینیم کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اُس وقت کیا جب ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہم نے امریکی حملوں سے قبل افزودہ شدہ یورینیم کا مواد، جوہری تنصیبات کی حفاظت کی خاطر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ اس ضمن میں رافائل گروسی نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کی 900 پاؤنڈ یورینیم، اصفہان کے قریب ایک پرانی جگہ منتقل کی گئی ہے۔ اس بیان پر فاکس نیوز نے رافائل گروسی سے سوال پوچھا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔ IAEA ایک ادارہ ہے جو قیاس آرائیوں پر قائم نہیں۔ ہمیں اس مواد کے مقام کے بارے میں علم نہیں۔

رافائل گروسی نے مزید کہا کہ ایرانی حکام نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے تحت ممکن ہے کہ یہ مواد منتقل ہوا ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جتنی جلدی ممکن ہو، معائنے کا عمل دوبارہ شروع ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں یہ سب کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا فرض ہے کہ میں ایران یا کسی بھی دوسرے ملک میں موجود یورینیم کے ہر گرام کے بارے میں رپورٹ کروں۔ میرا یہ اقدام ایران کے خلاف امتیازی سلوک نہیں۔ میرا کام یہ ہے کہ میں یہ جاننے کی کوشش کروں کہ یہ مواد کہاں ہے۔ ادھر ایران بھی اپنے تمام جوہری مواد کی رپورٹنگ اور جوابدہی کا پابند ہے اس لئے یہ میری مستقل ذمے داری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رافائل گروسی نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا