وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ، مذاکرات اور سفارت کاری سے امن کی بحالی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ، مذاکرات اور سفارت کاری سے امن کی بحالی پر زور WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر سے مسعود پیزیشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور مذاکرات و سفارت کاری سے امن کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ایرانی صدر نے مستقل حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطی کی صورت حال اور جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اپنی گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی میں تیزی سے ابھرتی ہوئی صورتحال پر مستقل طور پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
شہباز شریف نے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی سمیت تمام سفارتی فورمز پر ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے تمام فریقوں سے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری پر زور دیا۔
ایرانی صدر پیزیشکیان نے حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی مستقل اور اصولی حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور تنازع کے پرامن حل کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کا بھی اعتراف کیا۔دونوں رہنماوں نے مشکل ترین وقت میں امت کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر اور آپس میں رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراین ڈی ایم اے کی 25جون تایکم جولائی تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری این ڈی ایم اے کی 25جون تایکم جولائی تک ممکنہ موسمی صورتحال کیلئے ایڈوائزری جاری سی ڈی اے کا اسلام آباد سے پیپرملبری کے درختوں کو دو مرحلوں میں ختم کرنے کا فیصلہ پاکستان کے عوام اور حکومت کا حج انتظامات پر پاکستان و سعودی حکومت کو خراجِ تحسین یو اے ای کا ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم ملک سے کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ،وزیراعظم کی نیب کے زیر التوا مقدمات کو جلد از... ترکیہ کا ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امن کی بحالی سفارت کاری ایرانی صدر کا ایران
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔