دوسرا ون ڈے: پاکستان کا جنوبی افریقا کو جیت کےلیے 270 رنز کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد: 3 ون ڈے میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو جیت کے لیے 270 رنز کا ہدف دے دیا۔
گرین شرٹس نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 269 رنز بنائے، سلمان آغا 69 اور محمد نواز 59 رنز بناکر نمایاں رہے۔
اقبال کرکٹ اسٹیڈیم فیصل آباد میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
پاکستان کی اننگز
جنوبی افریقا نے پاکستانی ٹاپ آرڈر بلے بازوں کو وکٹ پر ٹکنے نہ دیا، اوپنر فخر زمان صفر پر آؤٹ ہوگئے جبکہ بابر اعظم 11 اور محمد رضوان 4 رنز بناکر چلتے بنے۔
3 وکٹوں کے نقصان کے بعد سلمان علی آغا اور صائم ایوب کی ذمے درانہ بیٹنگ نے ٹیم کو سہارا دیا اور دونوں بلے بازوں نے شراکت داری قائم کرتے ہوئے نصف سنچریاں اسکور کیں۔
صائم 53 اور سلمان علی آغا 69 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ حسین طلعت 10 کے اسکور پر پویلین لوٹ گئے۔
آخر کے اوورز میں محمد نواز اور فہیم اشرف نے ذمے داری سے بیٹنگ کی، نواز 59 اور فہیم اشرف 28 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 269 رنز اسکور کیے۔
یاد رہے کہ سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقا کو شکست دی تھی، سیریز کا دوسرا میچ آج اور تیسرا ہفتہ 8 نومبر کو اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں ہی کھیلا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقا پاکستان نے رنز بناکر
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔