امریکی حکام میں کھلبلی مچ گئی، انٹیلی جنس رپورٹ افشا ہونا غداری قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
واشنگٹن:
مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے ایران پر امریکی حملے کے بعد انٹیلی جنس جائزے کے افشا کو غداری قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وِٹکوف نے کہا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے یہ غداری ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ جو بھی اس کے پیچھے ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے تمام نقصانات کی رپورٹیں خود پڑھیں اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی فضائی حملوں میں ایران کے تینوں جوہری مراکز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
وِٹکوف کے اس بیان کو صدر ٹرمپ نے بھی تقویت دی اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر امریکی میڈیا کے انٹرویو کا کلپ شیئر کیا۔
اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ ہم نے فورڈو پر 12 بنکر بسٹر بم گرائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حفاظتی چھت کو توڑ گئے، اور یہ بھی واضح ہے کہ وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ہم نے ہدف حاصل نہیں کیا، سراسر بے بنیاد ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب پینٹاگون کے ابتدائی انٹیلی جنس تجزیے میں کہا گیا تھا کہ حملے سے ایران کا جوہری پروگرام صرف چند ماہ کے لیے متاثر ہوا ہے اور زیرِ زمین بنیادی تنصیبات بڑی حد تک محفوظ رہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے صدر کو بدنام کرنے کی مہم قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔