محرم الحرام میں سکیورٹی انتظامات؛ سوشل میڈیا کی سخت مانیٹرنگ ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک بھر میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی سخت مانیٹرنگ کی جائے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں محرم الحرام کے ایام میں امن و امان برقرار رکھنے، جلوسوں اور مجالس کی حفاظت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے تمام جلوسوں اور مجالس کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کے احکامات دیے اور ہدایت کی کہ فول پروف سکیورٹی کے لیے سیف سٹی کے تحت ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجالس اور جلوسوں کی حفاظت کے لیے درجاتی حصار قائم کیے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے جامع ٹریفک پلان بھی ترتیب دے دیا گیا ہے۔
تمام امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے مقامات کی جیو ٹیگنگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ سکیورٹی اداروں کو بروقت رسائی حاصل ہو۔ وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اشتعال انگیز مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور سوشل میڈیا کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ کوئی انتشار پیدا نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے۔
محسن نقوی نے ہدایت کی کہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں کے کھانے پینے کے انتظامات کا خصوصی خیال رکھا جائے اور انہیں شفٹوں میں تعینات کیا جائے تاکہ وہ مستعدی سے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن سکیورٹی انتظام یقینی بنایا جائے۔
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے قریبی رابطے رکھنے پر بھی زور دیا گیا اور ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کو لازمی قرار دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈی آئی جی اسلام آباد نے محرم الحرام کے حوالے سے کیے گئے انتظامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں محرم کے دوران 181 جلوس اور 965 مجالس کا انعقاد کیا جائے گا، جن کا سکیورٹی آڈٹ مکمل کر لیا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، اے ڈی سی جی، ڈی آئی جیز، تمام ایس پیز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محرم الحرام کے وزیر داخلہ اسلام آباد کے دوران کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔