لاہور:

سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور پائیدار حکمت عملی اپنائی جائے۔

یہ مطالبہ ایک پالیسی مذاکرے میں کیا گیا جس کا انعقاد سرچ فار جسٹس، کین پاکستان، چائلڈ رائٹس موومنٹ پنجاب، فارمین کرسچن کالج یونیورسٹی اور این سی ایچ آر نے مشترکہ طور پر کیا۔

سرچ فار جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر افتخار مبارک نے بتایا کہ پنجاب میں بچوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے، جن میں سے لاکھوں بچے محنت مشقت پر مجبور ہیں۔ انہوں نے قانون سازی میں ہم آہنگی، صوبائی اور ضلعی کمیٹیوں کے قیام، اور مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر سعید شفقت نے غربت اور تعلیم تک رسائی کو چائلڈ لیبر کی بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے بین الادارہ جاتی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔ ایڈیشنل سیکریٹری محنت طفیل دلشاد نے بتایا کہ حکومت ایک نیا لیبر کوڈ لا رہی ہے اور کم از کم عمر برائے ملازمت کو 16 سال کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

کین پاکستان کی راشدہ قریشی نے کہا کہ چائلڈ لیبر کو بچوں کے تحفظ کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ این سی ایچ آر کے ندیم اشرف نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے پائلٹ پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی۔ ڈاکٹر عبداللہ کھوسو نے گھریلو مزدور بچوں پر پابندی اور ان کے تحفظ کے لیے قانونی ترامیم کی سفارش کی۔

چائلڈ پروٹیکشن فورمز سے تعلق رکھنے والے بچوں نے زور دیا کہ حکومت بچوں سے متعلق پالیسیوں کی تیاری میں خود بچوں کو شامل کرے تاکہ ان کی ضروریات اور تجربات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چائلڈ لیبر

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم