محرم الحرام کے دوران گھوٹکی میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورماتھیلو(نمائندہ جسارت)محرم الحرام کے دوران ضلع گھوٹکی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کرنے کا فیصلہ، مجالس و جلوس مقرر کردہ وقت اور روٹس پر منعقد کرنے کی ہدایت، ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کروانے کا عزم، عوام سے رواداری کو فروغ دینے کی اپیل، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ڈاکٹر سید محمد علی کی زیر صدارت ان کے دفتر میں محرم الحرام کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع ? سومرو سمیت تمام اسسٹنٹ کمشنرز، پاک آرمی و رینجرز کے افسران، ڈی ایس پیز، تحیصلداروں، ڈی ایچ او، محکمہ میونسیپل، سیپکو اور متعلقہ افسران سمیت مختلف مکتبہ فکر کے علماء نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوان امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سخت حفاظتی انتظام کیے جائیں گے اس سلسلے میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کریں گے.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محرم الحرام کے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔