ڈی سی کوئٹہ نے محرم الحرام سے متعلق اجلاس میں متعلقہ محکموں کی ہدایات دیں کہ یکم محرم تا یوم عاشور صفائی، گیس، بجلی اور پانی فراہمی یقینی بنائی جائے۔  اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) مہراللہ بادینی کی زیر صدارت محرم الحرام کے دوران امن و امان اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق اہم اجلاس ضلعی دفتر میں منعقد ہوا۔ جس بلوچستان شیعہ کانفرنس کے نمائندوں، انجمن تاجران، ایس ایس پی آپریشن محمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، اسسٹنٹ کمشنر سٹی، اسسٹنٹ کمشنر کچلاک، میٹروپولیٹن کارپوریشن، صفاء کوئٹہ، واسا، کیسکو، سوئی سدرن گیس کمپنی، ایف سی، ڈی ایچ او کوئٹہ، بی ایم سی ہسپتال، سول ہسپتال، بے نظیر ہسپتال اور شیخ زید ہسپتالوں کے نمائندگان، سول ڈیفنس، سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کیں۔ اجلاس میں محرم الحرام کے تمام جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کے لئے موثر پلان مرتب کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی سی کوئٹہ نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو یکم سے 10 محرم تک بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

واسا کو ہدایت دی گئی کہ پانی اور واٹر ٹینکر کی فراہمی یقینی بنائے۔ صفا کوئٹہ جلوسوں کے روٹس، امام بارگاہوں اور سڑکوں کی صفائی کا عمل مکمل کرے گا۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسٹریٹ لائٹس کی مرمت اور اہم شاہراہوں نئی لائٹس کی تنصیب کرے گا۔ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی اور پی ڈی ایم اے، سول ڈیفنس و پی پی ایچ آئی ایمبولینسز فراہم کریں گے۔ انجمن تاجران سے جلوسوں کے روٹس پر دکانوں کی سیلنگ اور دیگر امور میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی درخواست کی گئی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تمام اداروں کو ہدایت دی کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان اور شہری سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور باہمی رابطہ و تعاون کو موثر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ڈی سی آفس میں ایک کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔ جہاں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندے ہمہ وقت موجود رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محرم الحرام کی فراہمی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی