لاہور میں اسموگ پر قابو پانے کے لیے ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
صوبائی دارالحکومت کو اسموگ فری بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ لاہور نے سخت اقدامات اور ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی ہدایت پر اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس مدثر نواز کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو جنگی بنیادوں پر شہر بھر کے صنعتی یونٹس کا معائنہ کرے گی۔ کمیٹی میں سیکرٹری کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات انجام دیں گے، جبکہ ڈائریکٹر انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی، ڈائریکٹر لیبر ڈیپارٹمنٹ، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور ای پی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل بھی ممبران ہوں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صنعتی یونٹس کے بوائلرز اور فرنسز کا تفصیلی معائنہ کیا جائے گا، تاکہ اسموگ میں اضافہ کرنے والے عناصر کی نشاندہی ہو سکے۔ غیر معیاری فیول کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور غیر قانونی کاربن بیگز ضبط کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس مدثر نواز نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے یونٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں صنعتی یونٹس کے معائنے کی براہِ راست نگرانی کریں اور ماحولیاتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلعی انتظامیہ، ای پی اے، لیبر اور انڈسٹری ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ مدثر نواز نے صنعتی یونٹس کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی قوانین کی سختی سے پابندی کریں، تاکہ لاہور کو اسموگ فری شہر بنانے کے ہدف میں کامیابی حاصل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں تمام متعلقہ ادارے آلودگی کے خلاف متحرک ہیں اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صنعتی یونٹس یونٹس کے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔