ناروا سلوک پر مقابلۂ مس یونیورس میں شریک حسیناؤں کا واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
تھائی لینڈ میں جاری مس یونیورس کے لیے مقابلۂ حسن تنازع کا شکار ہوگیا جس پر مقابلے میں شریک حسیناؤں نے شدید احتجاج کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ کے مقابلہ مس یونیورس کی ایک تقریب میں اُس وقت ماحول گرم ہوگیا جب ایونٹ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل نے مس میکسیکو فاطمہ بوش کو سب کے سامنے ڈمی کہہ دیا۔
اس پر جب فاطمہ بوش نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو ایگزیکیٹو ڈائریکٹر نے سیکیورٹی بلوا کر مس میکسیکو کو طاقت کے ذریعے چپ کروانے کی کوشش کی۔
فاطمہ بوش نے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ ایک عورت کو کس طرح عزت دینی چاہیے اور وہ بھی وہ عورت جو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہی ہو۔
یہ سنتے ہی تقریب میں موجود دیگر حسینائیں جن میں موجودہ مس یونیورس وکٹوریا کیر تھیلویگ بھی شامل تھیں۔ فاطمہ بوش کے حق میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔
دنیا بھر سے آنے والے مقابلہ حسن کی امیدواروں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ناوت اِتسر گریسل کے رویے کے خلاف مشترکہ طور پر تقریب سے واک آؤٹ کیا۔
اس سارے معاملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا طوفان امڈ آیا اور مقابلہ مس یونیورس کے صدر راؤل روچا کانتو کو نوٹس لینا پڑا۔
انھوں نے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر اِتسر گریسل کے رویے کو توہین آمیز اور خوفزدہ کرنے والا قرار دے کر انہیں مقابلے کے انتظامات سے ہٹا دیا اور نئے سی ای او ماریو بوکارو کو تھائی لینڈ بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ مس یونیورس 2025 کا فائنل 20 نومبر کو ہوگا اور دنیا منتظر ہے کہ اب تاج کس کے سر سجتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مس یونیورس فاطمہ بوش
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر