Daily Ausaf:
2026-07-23@23:53:35 GMT

دھاندلی کا الزام، سابق چیف الیکشن کمشنر گرفتار

اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT

بنگلہ دیش(نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش میں سابق چیف الیکشن کمشنر کے ایم نورالہدیٰ کو شیخ حسینہ کے حق میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، مشتعل عوام کے ہاتھوں تشدد کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کیا گیا۔

نجی اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی عدالت نے سابق چیف الیکشن کمشنر کو وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے حق میں مبینہ انتخابی دھاندلی میں کردار ادا کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

77 سالہ کے ایم نورالہدیٰ کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا گیا ہے تاکہ اُن سے مزید تفتیش کی جاسکے۔

یہ کارروائی اس واقعے کے ایک دن بعد عمل میں آئی جب ایک مشتعل ہجوم نے اُن کے گھر پر دھاوا بول دیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔

اتوار کے روز اپوزیشن کی طاقتور جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے نورالہدیٰ اور دیگر سابق الیکشن کمشنرز کے خلاف مقدمہ درج کروایا، جن پر ماضی کے انتخابات میں شیخ حسینہ کے حق میں دھاندلی کرنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ حسینہ واجد کا 15 سالہ اقتدار اگست 2024 میں ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں ختم ہوگیا تھا۔

مقدمہ درج ہونے کے چند گھنٹوں بعد ایک ہجوم نے ڈھاکا میں نورالہدیٰ کے گھر پر حملہ کیا، وہ انہیں گھسیٹ کر سڑک پر لائے، ان کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈالا اور تشدد کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا۔

نگراں حکومت نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔

جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کسی ملزم پر حملہ کرنا اور اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی کے منافی اور ایک فوجداری جرم ہے۔

بعد ازاں پولیس نے کے ایم نورالہدیٰ کو عدالت لے جاتے ہوئے ان کی حفاظت کے لیے انہیں ہیلمٹ پہنایا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی نورالہدیٰ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’آئین و سلیش کیندر‘ سے وابستہ ابو احمد فیض القبر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قانون کی حکمرانی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار