بلوچستان بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ، تحریک انصاف کی جلسے کی اجازت مسترد
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
بلوچستان حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جلسے کی اجازت مسترد کردی ہے۔جمعرات کو بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبے میں اسلحہ کی نمائش، جلسے جلوس، دھرنے اور 5 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد ہوگی۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جب کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت نے پی ٹی آئی کے جلسے کی اجازت مسترد کردی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت سیکیورٹی تھریٹ کے پیش نظر نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی نے 7 نومبر کو جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کی سنگین صورت حال کے باعث الرٹ جاری کردیا گیا ہے، انتظامیہ نے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات سخت کردیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جلسے کی اجازت پی ٹی آئی کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔