امریکی حملے فوردو نیوکلیئر سائٹ کو نقصان پہنچانے سے قاصر کیوں رہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
مختلف ذرائع اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جوہری تنصیبات کے محفوظ رہنے کی کیا وجہ ہے؟ اسلام ٹائمز۔ تازہ ترین رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی GBU-57 بنکر میں گھسنے والے بم ایران کی زیر زمین فوردو جوہری تنصیب کو تباہ کرنے کے لیے اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں جس سے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کی تکذیب ہوتی ہے کہ یہ سائٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی۔ حملے سے قبل امریکی میڈیا کے پروپیگنڈے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ بڑے بم، جن میں سے ہر ایک کا وزن 13.
چٹان کی طاقت کے علاوہ کچھ دیگر عوامل بھی موثر ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر اور زمین سے گھسنے والے بموں کے ماہر رچرڈ جانلوز نے این پی آر سے ایک انٹرویو میں نشاندہی کی کہ ٹوٹ پھوٹ اور دراڑوں جیسی ارضیاتی ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیاں بم کے راستے کو زمین کے اندر موڑ سکتی ہیں اور دھماکے کی تاثیر کو کم کر سکتی ہیں۔ اس لیے بموں کی اپنے ہدف تک پہنچنے اور فوردو جوہری تنصیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکامی کی ممکنہ وجہ علاقے میں چٹان کی مزاحمت اور ارضیاتی عوامل پر مشتمل تھی۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی منصوبہ ساز اس قسم کے چیلنجز سے آگاہ تھے لہذا انہوں نے ایک یا دو GBU-57 بم بھیجنے کے بجائے 12 بم فوردو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجے۔ سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر کی بنیاد پر یہ بم جوڑوں کی صورت میں دو دو کر کے گرائے گئے ہیں۔ پہلے بم نے چٹان کو توڑا اور دوسرے بم کے لیے زمین میں گھسنے کی گہرائی میں اضافہ کیا۔
اسی طرح یوں دکھائی دیتا ہے کہ بمبار طیاروں نے فوردو کے وینٹیلیشن سسٹم کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ان بموں نے ممکنہ طور پر زمین میں گھس کر چٹانوں میں دھماکے کی شدید لہر پیدا کی ہو گی جس کے باعث زیر زمین تنصیبات کی چھتوں کو نقصان پہنچا ہو گا۔ لیکن جانلوز کا کہنا ہے کہ دھماکے کی یہ لہریں پتھریلی زمین میں بہت جلد کمزور ہو جاتی ہیں جبکہ فردو تنصیبات بھی درست پہاڑ کے دامن میں واقع ہیں جس کے باعث ان کے محفوظ رہنے کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ جیولوجیکل عوامل کے علاوہ فوردو تنصیبات میں انجام پانے والے حفاظتی اقدامات بھی امریکہ کے فضائی حملوں کی ناکامی کی ایک اہم وجہ ہیں۔ ان مختلف وجوہات کی بنا پر یہ حملہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا اور ایران کی جوہری تنصیبات تباہ ہونے سے بچ کئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی گہرائی
پڑھیں:
مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔
حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ